سرینگر/: پاکستانی وزیر دفاع پرویز خٹک نے بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کر دی ہے۔پاکستانی وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ دھمکیاں دینا بھارت کی پرانی عادت ہے ہم نے پہلے بھی مذکرات کی دعوت دی اور اب بھی دے رہے ہیں۔پرویز خٹک نے یہ بات پارلمنٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو میں کہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ وقت آیا تو بھارتی دھمکیوں کا جواب دھمکیوں سے نہیں بلکہ عملی ایکشن سے دیں گے۔یہ صورتحال بھارتی الیکشن کی وجہ سے ہے۔انشاء اللہ حالات نارمل ہو جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طرف سے وزیراعظم عمران خان نے بھارت کو پیشکش کی ہے کہ وہ الزامات کا ثبوت فراہم کریں۔جب کہ اسی متعلق وزیر ریلوے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ چناؤ کے لئے مودی سرکار نے پورے خطہ میں جنگ کی کیفیت پیدا کر دی ہے، ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن اگر جنگ مسلط کی گئی تو منہ توڑ جواب دیں گے، جنگ شروع بھارت کرے گا تو اسے مٹا کر رکھ دیں گے، تمام اگلے پچھلے حساب پورے کریں گے، شیخ رشید کا کہنا تھا کہ پلوامہ حملہ میں بارود بھارت کا کرنے والے بھارتی، پھر بھی عمران خان نے تحقیقات کی پیشکش کی،مودی سرکار کی اپنی حماقتوں سے دنیا میں کشمیر کا کیس پھر زندہ ہوا، ہمیں تنہا کرنے کے دعویداروں چین ہمارے ساتھ، سعودیہ ہمارے ساتھ ہے، عرب اماراتپاکستان آ رہا ہے، ہم کیسے تنہا ہوئے۔واضح رہے۔اتوار کو بھارتی وزیراعظم نریندرمودی کے تبصرہ پاکستانی پر وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ وہ اپنے اس بیان کہ ’’ اگر بھارت نے ہمیں قابل عمل انٹیلی جنس معلومات فراہم کیں تو ہم اس پر فوری کارروائی کریں گے ‘‘ پر قائم ہیں۔ وزیراعظم نے کہاکہ دسمبر2015ء میں بھارتی وزیراعظم مودی سے ملاقات کے دوران ہمارا اس بات پر اتفاق ہواتھا کہ چونکہ تخفیف غربت ہمارے خطے کی ترجیح ہے اس لئے ہمیں امن کی کوششوں کو دہشت گردی کے کسی واقعہ کی وجہ سے ڈی ریل کرنے کی اجازت نہیں دینا چاہئے تاہم پلوامہ حملے سے بہت پہلے ستمبر 2018ء میں ان کوششوں کو ڈی ریل کردیا گیا۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق پاک وزیراعظم نے کہاکہ افسوس ہے کہ بھارت میں انتخابات کی وجہ سے امن بدستور مبہم ہے، انہوں نے کہاکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو امن کو ایک موقع دینا چاہئے۔واضح رہے کہ 14فروری کو لیتہ پورہ پلوامہ میں ایک فدائین حملے میں سی آر پی ایف کے 44اہلکار ازجان ہوئے تھے جس کے بعد دونوں ممالک کے مابین شدیدگی پیدا ہوئی ۔ بھارتی وزراء اور میڈیا نے پاکستان کو سخت کارراوئی کیلئے تیار رہنے کی دھمکی دی تاہم پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے باہمی اعتماد سازی پر زور دیا تھا۔

