سابق حکومت نے دفعہ370کو زبردست دھچکا پہنچایا، دلی والوں نے ہمیشہ جموں وکشمیر کی آواز کو بے وزن کرنے کیلئے ہمیں تقسیم کیا۔ عمر عبداللہ

سرینگر 16 جنوری : جب جب نیشنل کانفرنس اقتدار سے دور رہی تب تب جموں وکشمیر کی خصوصی پوزیشن کیساتھ چھیڑ کی گئی ، سابق پی ڈی پی بھاجپا حکومت نے بھی اس عمل میں کوئی کثر باقی نہیں رکھا، ان لوگوں نے یہاں جی ایس ٹی نافذ کیا اُس کا خمیاز ہم آج بھگت رہے ہیں، فوڈ سیکورٹی ایکٹ لاگو کیا،ہمارا راشن کوٹا کم ہوگیا،ہمیں مہنگے داموں راشن خریدنا پڑتا ہے اور اب چینی بھی راشن گھاٹوں سے غائب ہوگئی، ایسے ہی سرفیسی ایکٹ اور دیگر قوانین لاگو کرکے خصوصی پوزیشن کو زبردست دھچکا پہنچایا گیا۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے آج بیروہ میں یک روزہ پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر پارٹی لیڈر تنویر صادق، پروفیسر عبدالمجید متو،محمد ابراہیم میر، میرواعظ وسطی کشمیر مولوی لطیف اللہ اور محمد امین باندے کے علاوہ کئی لیڈران بھی موجود تھے۔عمر عبداللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’جموں وکشمیر کو اب یک جماعتی حکومت کی ضرورت ہے، ہماری ریاست نے مخلوط حکومتوں سے کافی نقصان اُٹھایا ہے، 28تیس والی حکومت میں نے 6تک کی ہے، مجھے بہت اچھا تجربہ ہے، ہم اپنا فیصلہ کرتے ہیں لیکن جوہمارے ساتھ ہوتے ہیں وہ فیصلہ نہیں کر پاتے، اُن کو معمولی سی معمولی چیز کیلئے بھی دلی جاکر اجازت طلب کرنی پڑتی ہے‘‘۔ نامہ نگار راجہ بلال کے مطابق عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر مرحوم مفتی صاحب کے پاس حکومت بنانے کیلئے برابر سیٹیں ہوتی تو نریندر مودی سرینگر کے ایک عوامی جلسے میں اُن کی بے عزتی نہیں کرتے۔ مودی نے ایسا اس لئے کیا کیونکہ انہیں معلوم تھا کہ مفتی صاحب کے پاس صرف28سیٹیں ہیں اور وہ مجبور ہیں، مودی اڑیسہ یا کسی اور ریاست میں جاکر وہاں کے وزیر اعلیٰ کی بے عزیتی نہیں کرسکتے کیونکہ وہاں ایک ہی جماعت کی حکومت ہوتی ہے۔ نیشنل کانفرنس نائب صدر نے کہا کہ ہمارے دفعہ370اور دفعہ35اے کو بھی اسی لئے نقصان پہنچا، کیونکہ ہماری آواز بکھر گئی ہے۔ ہمارے ووٹ مختلف پارٹیوں میں بانٹے گئے اور ایک سازش کے تحت کشمیر کی آواز بے وزن کی گئی۔شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ نے پہلے کہا تھا کہ نئی دلی کی ہمیشہ یہ کوشش ہمیشہ رہی ہے کہ یہاں گلی گلی میں لیڈر بنائے جائے، تاکہ جموں وکشمیر کے لوگ ایک آواز میں بات نہ کرسکیں۔عمر عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس صحیح سوچ رکھنے والوں کا پارٹی میں خیر مقدم کرتی رہے گی، ایسے لوگ جن کا ٹریک ریکارڈ صحیح اور جو ریاست کے مفادات کے تئیں فکر مند ہوں۔ دریں اثناء انہوں نے بیروہ کے کئی علاقوں کا دورہ کیا اور لوگوں کے مسائل و مشکلات کی جانکاری حاصل کی اور برفباری سے پیدا شدہ صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔

Share This Article