سرینگر: ’’ دانشور شاہ فیصل کا آئی اے ایس سے مستعفی ہوکر سیاست میں آنے کا فیصلہ نیک شگون کے طور پر لیا جانا چاہئے۔
دنیا میں یہ بات ضرب الامثل ہے کہ امید ہی لوگوں کوسہارا دیتی ہے اور اس طرح ہمیں امید ہے کہ شاہ فیصل اپنی ذہنی نہج کے مطابق سیاست کو عوامی خدمت کیلئے وسیلہ بنائیںگے۔
میرا اپنا اندازہ ہے کہ وہ جس پارٹی میں بھی شامل ہوںگے وہ اپنے آپ کو اپنے مثالی کردار سے منفرد بنائیںگے!
شاہ فیصل نے آئی اے ایس سے مستعفی ہونے کے سلسلے میں جو دلائل دیئے ہیں وہ صحیح ہیں ۔ حال کے برسوں میں ہندوستان کے لوگوں نے انتہا پسندی ، تنگ نظری ، منافرت اور فرقہ پرستی کا جو ماحول دیکھا ہے وہ پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا!
اس طرح ہندوستان کے حالیہ حکمرانوں نے کوئی صحیح خدمت انجام دینے کے بجائے اُن تصورات کو کمزور سے کمزور تر بنا دیاجو تصورات ہندوستان کی آزادی کے متوالوں نے اپنی انتھک محنت سے پروان چڑھائے تھے!
مجھے اُمید ہے کہ وہ سیاسی جماعت جس میں شاہ فیصل شامل ہوںگے ، شاہ فیصل کی ذہانت اور قابلیت اس طرح استعمال کریںگے کہ ریاست کے عوام براہ راست شاہ فیصل کی لیاقت سے مستفید ہو سکیں!
آئی اے ایس آفیسر شاہ فیصل کا سیاست میں آنے کا فیصلہ نہایت خوش آئند:سوزؔ
