مودی سرکار کی کشمیر سے متعلق غلط پالیسی کا نتیجہ دیا قرار ، کہا دنیا اس کو سنجیدگی سے لیگی
سرینگر/10جنوری: کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈر اورسابقہ مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے کہا ہے شاہ فیصل کے استعفیٰ دینے کی خبروں پر اپنے رد عمل کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا ان کے اس قدم کو سنجیدگی سے لیگی۔ چدمبرم نے کہا کہ بی جے پی کی کشمیر سے متعلق سخت گیر پالیسی کا یہ نتیجہ ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق کانگریس پارٹی کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر داخلہ پی چدمبرم نے آئی اے ایس ٹاپر شاہ فیصل کی جانب سے استعفیٰ دینے کی خبروں پر اپنا رد عمل کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ شاہ فیصل کے اس اقدام کاپوری دنیا سنجیدہ نوٹس لے گی ۔انہوںنے کہا کہ سماجی ویب سائٹ ٹویٹر پر کئی ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ شاہ فیصل کے استعفیٰ کی بڑی وجہ مرکز میں مودی سرکار کی کشمیر سے متعلق غلط پالیسی ہے ۔انہوں ن کہا کہ وادی کشمیرمیں ہلاکتوں اور بھارتی مسلمانوں کی اعتباریت کو شک کی نظروں سے دیکھنے سے اُکتاکر شاہ فیصل نے بطوراحتجاج استعفیٰ دینے کا فیصلہ لیا ہے جو ہمارے لئے قابل تشویش ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ جب جموری نظام کے خلاف فیصلہ لے تو یہ جمہوریت پر ایک بدنما داغ لگ جاتا ہے ۔ انہوںنے کہا کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کے نتیجے میں ہی وادی کے نوجوان شدت پسندی کی راہ اختیار کئے ہوئے ہیں ۔چدمبرم نے کہا کہ ’’فولیہ ربیرو سابق ڈی جی پی پنجاب اور فارمر کمشنر آف پولیس نے شاہ فیصل کی طرح سے اپنے تاثرات پیش کئے تھے جس پر ہم کوشرمندگی محسوس ہوتی ہے ۔ چدمبر م نے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی ایک شدت پسند جماعت ہے جس نے ملک میں عدم تحفظ کا ماحول پیدا کیا ہے ’ماب مالچنگ‘ کے واقعات بڑھ گئے ہیں لوگ اپنے آپ کوغیر محفوظ تصور کررہے ہیں ۔ اقلیتی فرقہ سے وابستہ طبقوں کو ہراساں کاجارہا ہے جو ہندودھرم کے بلکل منافی ہے ۔ انہوںنے کہا کہ کوئی بھی دھرم کسی دوسرے دھرم کے انسان کو جان سے مارنے کی اجازت نہیں دیتا اور نا ہی دھرم چھوڑنے اور اختیار کرنے میں کوئی زبردستی ہونی چاہئے ۔ انہوںنے کہا کہ بھارت ایک جمہوری ملک ہے جہاں پر سبھی دھرموں کے لوگوںکو رہنے کا برابر حق حاصل ہے اور ان سے یہ حق چھینا نہیں جاسکتا ۔ واضح رہے کہ گذشتہ روز کشمیر کے نوجوان ڈاکٹر شاہ فیصل نے استعفیٰ کا اعلان کیا تھا جس کے بعد سیاسی گلیاروں میں ہلچل مچ گئی ۔ ریاست کے ساتھ ساتھ مرکز میں بھی موصوف کے استعفیٰ کی خبروںنے ہل چل بپا کی ۔ شاہ فیصل نے 2010میںآئی اے ایس امتحان میں ٹاپ کیا تھاشاہ فیصل کا تعلق سرحدی ضلع کپوارہ سے ہیں اور وادی میں گذشتہ تین دہائیوں سے جاری کشیدگی اور سیاسی اُتھل پُتھل سے بخوفی واقف ہیں یہاں کے حالات پر ان کی گہری نظر رہی ہے۔ 2010کے بعد آئی اے ایس بننے کے بعد سے ہی انہوںنے کشمیری عوام کو دکھ اور درد کو دور کرنے کی سعی کی تاہم انہیں کوئی خاص کامیابی نہیں ملی ۔ 2016میں شہری ہلاکتوں کے خلاف بھی موصوف نے سماجی ویب ویب سائٹ پر اپنے تاثرات پیش کئے ۔

