ویڈیو: محبوبہ مفتی معافی مانگنے سے آگے بڑھ کر اقوام متحدہ کی قراردادوں کی حمایت کر۔انجینئر رشید

کہا کہ معافی مانگنا اچھی بات ہے مگر یہ کافی نہیں ہوسکتا،شیخ عبداللہ زندہ ہوتے تو وہ بھی اپنی خطاؤں کی معامی مانگ رہے ہوتے

سرینگر7جنوری : عوامی اتحاد پارٹی کے سربراہ انجینئر رشید نے محبوبہ مفتی کی جانب سے اپنے’’دودھ اور ٹافی‘‘کے افسوسناک مقولہ کیلئے معافی مانگنے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگرچہ بدیر مانگی گئی اس معافی سے معصوم جانوں کی تلافی نہیں ہوسکتی ہے تاہم اس سے ان سبھی لوگوں کو ایک مظبوط اور واضح پیغام ملنا چاہیئے کہ جوحق خود ارادیت کیلئے کشمیریوں کے عزم کو توڑنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نئی دلی کو یہ بات سمجھ لینی چاہیئے کہ کشمیر میں جو کوئی بھی لوگوں کے جذبات و خواہشات کے مخالف ہوگا اسے جلد یا بدیر معافی مانگنا ہی ہوگی۔آج یہاں سے جاری کردہ ایک بیان میں انجینئر رشید نے کہا کہ محبوبہ مفتی کے، انکے تذلیل آمیز بیانات یا اقدامات کیلئے ،لوگوں سے معافی مانگنے پر مجبور ہونے سے نئی دلی کی آنکھیں کھل جانی چاہیءں اور اسے معلوم ہوجانا چاہیئے کہ آج اگر شیخ عبداللہ بھی زندہ ہوتے تو وہ بھی 1975میں ہاتھ کھڑا کرنے، 22سال کی جدوجہد کو سیاسی آوارہ گردی کہنے اور اس طرح کی دیگر غلطیوں کیلئے لوگوں سے معافی مانگتے پھر رہے ہوتے۔انہوں نے کہا کہ یہ کشمیری عوام کا اپنے کاز کے تئیں عزم اور انکی زبردست قربانیاں ہیں کہ جنہوں نے محبوبہ مفتی کو اپنا غرور توڑ کر اپنی خطاؤ ں کیلئے معافی مانگنے پر مجبور کردیا ہے۔انجینئر رشید نے کہا کہ محبوبہ مفتی کے معذرت خواہنانہ الفاظ معصوم انسانی جانوں کو واپس تو نہیں لاسکتے ہیں لیکن ان سے سیاست دانوں،وردی پوش،باالخصوص جموں کشمیر پولس کے،افسروں اور دیگراں کو سبق لینا چاہیئے کہ جو شاہ سے زیادہ وفادار بنتے ہوئے کشمیریوں پر کئے جانے والے تشدد اور زیادتیوں کو جواز بخشنے کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگرمحبوبہ مفتی کو واقعی ندامت محسوس ہوتی ہے توانہیں معافی مانگنے سے آگے بڑھنا چاہیئے۔انجینئر رشید نے کہا’’وہ کم از کم اتنا ضرور کرسکتی ہیں کہ نام نہاد سیلف رول کی بات کرکے کشمیر مسئلہ کی حیثیت کو کمزور کرنے کی کوئی کوشش نہ کرنے کا عزم کریں بلکہ مسئلہ کشمیر کو اسکے تاریخی پس منظر میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت حل کرنے کے مطالبہ کی حمایت کریں‘‘۔انجینئر رشید نے محبوبہ مفتی سے ہر بار واجپائی کی کشمیر پالیسی کی دہائی نہ دینے کیلئے کہا اور واجپائی کی نام نہاد کشمیر پالیسی کی تعریفوں میں جاری کئے جانے والے بیانات کو مبہم اور گمراہ کن قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ امر واقعہ یہ ہے کہ واجپائی نے دراصل کبھی بھی عالمی سطح پر تسلیم کردہ مسئلہ کشمیر کے بارے میں حقیقت پسندی کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔

Share This Article