کہا بی جے پی کے ساتھ دوبارہ ہاتھ ملانا میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی
سرینگر 07جنوری : پی ڈی پی سربراہ اور سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے ’’دودھ اور مٹھائی‘‘کے بیان پر معذرت اور شرمندگی کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ میرے بیان سے اگر نوجوانوں کے دل مجروح ہوئے ہیں تو میں معذرت طلب کرتی ہوں تاہم مجھے ان بچوں کی فکر تھی جن کو احتجاجی ریلیوں میں آگے کر کے زخمی اور ازجان کیا جاتا تھا ۔اپنے والد کی تیسری برسی کی تقریب پر لوگوں کے ایک بڑے مجمعہ سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ ’بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملانا میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی‘اور اس کیلئے مجھے اُن پی ڈی پی ارکان نے مجبور کیا تھاجو آج اس پارٹی سے چلے گئے ہیں ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی سربراہ اور سابق ریاستی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اپنے والد مرحوم محمد محمد سعیدکی تیسری برسی کے سلسلے میں بجبہاڑہ میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران مرحوم کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے پُرنم آنکھوں سے انہیں یاد کرتے ہوئے کہا کہ اگر آج ’میرے والد اس دنیا میں ہوتے ‘‘تو پارٹی سے غداری کرنے کی کسی میں ہمت نہیں تھی ۔ انہوںنے کہا کہ ریاست جموں وکشمیر کی سیاست اور پی ڈی ڈی کیلئے مرحوم کا انتقال ایک بڑا نقصان تھا جس کی برپائی ہم کبھی نہیں کرسکتے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ مرحوم مفتی محمد سعید ایک منجے ہوئے سیاست دان تھے اور ان کے دور حکومت میں ریاست جموں و کشمیر خاص کر کشمیر میں ہر طرف امن کی فضاء قائم تھی تعمیر و ترقی کا سنہرا دور چلا لیکن بدقسمتی سے وہ ہمارے ساتھ زیادہ دیر نہ رہے ۔ سابق وزیر اعلیٰ محبوبی مفتی نے اپنے خطاب میں کہا کہ برہان وانی کے جاں بحق ہونے کے بعد وادی میں پیدا شدہ صورتحال کے پیش نظر جب ہمارے بچے فورسز کی گولیوں کے شکار ہوتے تھے تو میرا سینہ چھلنی ہوجاتا تھا اور اس درد کے مارے میں نے کہا تھا کہ ’’بچوں کو فورسز کیمپوں اور پولیس سٹیشنوں کے پاس کیا مٹھائی یا دودھ لانے کیلئے جانا ہوتا ہے ‘‘انہوںنے کہا کہ مجھے میرے بچوں کی فکر تھی تاہم اگر میرے ان الفاظ سے نوجوانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو میں معذرت طلب کرتی ہوں ۔ اپنے مرحوم والد مفتی محمد سعید کی تیسری برسی کے سلسلے میں جنوبی کشمیر کے بجبہارہ میں ایک تقریب سے مخاطب ہوتے ہوئے محبوبہ نے کہا’’کیا مجھے ان بچوں سے یہ پوچھنے کا بھی حق نہیں تھا کہ آپ تو میری ریلیوں کا حصہ رہے ہو، کیوں آپ کو اْن احتجاجی ریلیوں میں آگے رکھا جارہا ہے جہاں آپ کو خدا نہ کرے زخمی ہونا پڑتا‘‘۔محبوبہ مفتی نے کہا مرحوم مفتی محمد سعید کے انتقال کے بعد بی جے پی کے ساتھ دوبارہ ہاتھ ملانے کیلئے مجھے ان ہی لیڈران نے مجبور کیا تھا جو آج پارٹی چھوڑ کر چلے گئے ہیں ۔ انہوںنے کہا کہ بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملانا میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھی ۔ یاد رہے کہ محبوبہ نے 2016میں وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کی موجودگی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران اْس وقت ہونے والی شہری ہلاکتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا’’بچے فورسز کیمپوں اور پولیس تھانوں کے قریب مٹھائی یا دودھ لانے نہیں جاتے

