وادی کے سرکاری اسپتالوں کے باہر دوا فروش بیماروںکے لئے درد سر

بیمار کے ہاتھ سے ڈاکٹر وں کے لکھے ہوئے نسخے چھین کر دوا خریدنے پر کر رہے مجبور

سرینگر 07جنوری /سی این آئی وادی کشمیر میں سرکاری حلقوں میں بد انتظامیوںکا دائرہ بڑھتے ہوئے پرا ئیویٹ اداروں تک پہنچ گیا ہے۔جس کی مثال وادی کشمیر کے بڑے سرکاری اسپتالوںکے باہر دوا فروشوں نے قائم کی ہے جو بیمار کے ہاتھ سے ڈاکٹر وں کے لکھے ہوئے نسخے چھین کر دوا خریدنے پر مجبور کرتے ہیں ،حد یہ ہے کہ بیماروں کے پاس پیسہ نہ ہونے پر انہیں ادھار ی پر مجبور کرکے دوا دی جاتی ہے،جس میں اکثر ڈاکٹروں کو کیمشن ملتا ہے۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق صدرا سپتال سرینگر ،صورہ ،لل دید اسپتال کے باہر دوا فروشوں نے بد نظمی کا ریکارڈ ہی توڑ ڈالا ہے، جو بیمار ان اسپتالوں میں اپنا علاج کرنے جاتے ہیں تو وہاں دوا فروشوں کے ایجنٹ پہلے ہی داکٹروں کے پاس پہنچ گئے ہوتے ہیں ڈاکٹر جوںہی نسخہ مکمل کرتا ہے تو دوا فروشو ں کے ایجنٹ نسخہ بیمار کے ہاتھ سے چھین کر اسے پنے دکان ے دوا لینے پر مجبور کرتا ہے۔جس سے عام بیماروں کو بردست پریشانی ہوتی ہے۔ بیماروں کو اسپتال سے باہر آنے کا موقع ہی نہیں ملتا ہے۔حد یہ ہے کہ اکژ بیماروں کے پاس پھر کرایہ تک نہیں بچتا ہے۔ واضع رہے کہ سر ینگر کے اسپتا لوں میں وادی کے دور دراز علاقوں سے بیمار لوگ اپنا علاج کرنے آتے ہیں جن میں اکثر غریب لوگ ہوتے ہیں جو سرینگر کے اسپتالوں میں اپنے علاج کے لئے تو بظاہر آتے ہیں لیکن یہاں سے ان دوا فروشوں کے ہاتھوں جیب کتاکے جاتے ہیں جو ایک المیہ ہے ،جس کی طرف ابھی تک انتظامیہ کی آنکھیں بند دکھائی نظر اتی ہیں ۔تاہم بتایا جاتا ہے۔کہ دوا فرشوں کے اس انسانت سوز حرکت میں ڈاکٹروں کا مکمل ہاتھ ہوتا ہے۔اور انکو دوا فروشوں سے کیمشن اور دوا ساز کمپنیوں سے تحائیف بھی ملتے ہیں۔یاد رہے کہ سرکاری نظا م میں تو خامیاں تھی ہی لیکن اب پرائیویٹ سیکٹر میں بھی انسانیت کی دھجیاں اڑادی جاتی ہیں۔

Share This Article