کشمیری زبان کو بھاشا سنگم سے ہٹایا گیا

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!


سرینگر میں ادبی مرکز کمراز کا احتجاج 


سرینگر/7دسمبر:  ادبی مرکز کمراز کے صدر نے اخبارات کے نام جاری ایک بیان میں کشمیری زبان کو وزارتِ ترقی وسایلِ انسانی کے ڈیجٹیل پورٹل بھاشا سنگم سے ہٹائے جانے پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ کچھ لوگ ایک مخصوص پالیسی کے تحت کشمیری زبان کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈت اور مسلمان ایک جٹ ہو کر اس زبان کے تحفظ کے لئے ایک ساتھ کھڑے ہیں۔ واضع رہے کہ وزارتِ ترقی وسایلِ انسانی نے مختلف علاقائی زبانوں کے مخصوص الفاظ اور جملوں کو ہندی اور انگریزی زبانوں میں ترجمہ کرنے کے لئے ایک ڈیجٹیل پورٹل شروع کیاہے۔ اس پورٹل میں کشمیری زبان بھی شامل تھی۔ لیکن کشمیری پنڈتوں کے چند الفاظ پر اعتراض جتانے پر اس زبان کو پورٹل سے ہٹایا گیا ہے۔ صدرِ مرکز نے محکمہ کے اس اقدام کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے۔ انہوں نے کشمیری پنڈت برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ کشمیری زبان کے خلاف اٹھنے والے ہر قدم کا مقابلہ کریں۔ انہوں نے مرکزی وزارت کے ذمہ داروں سے اپیل کی کہ وہ جلد سے جلد اس زبان کو دوبارہ پورٹل میں شامل کریں۔
Share This Article