انٹر نیٹ بریک ڈائون ،کشمیری طلاب کیلئے سوہان روح

امتحانات کی تیاریوں میں مشکلات درپیش،گور نر سے مداخلت کی اپیل

سرینگر:١٦،جولائی: ’وسطی اور شمال جنوب میں موبائیل انٹر نیٹ خد مات بار بار منقطع ‘ رکھنے پر طلبہ اور تاجروں نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سوالیہ انداز میں کہا کہ ایسے میں بغیر نقدی لین دین کو کیسے ممکن بنایا جاسکتا ہے ؟جبکہ طلبہ ضروری معمولات حاصل کرنے سے قاصر رہتے ہیں ۔طلبہ اور تاجروں نے شمال وجنوب میں منقطع موبائیل انٹر نیٹ خد مات کو فوری طور پر بحال کرنے کا مطالبہ کیا ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق انٹرنیٹ اِس دور کی ایک غیر معمولی ایجاد ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے ایک نئے عہد یعنی ’انفارمیشن ایج‘ کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کی اہمیت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی طرح یہ بھی ایک میڈیا ہے جسے اصطلاحاً سائبر یا سوشل میڈیا کہا جاتا ہے۔ چنانچہ کسی دوسرے میڈیا کی طرح یہ بھی معاشرے میں رائج خیالات، تصورات، اقدار اور روایات کو متاثر کرتا ہے اور جس سمت میں چاہے ان کا رخ موڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔تاہم وادی کشمیر میں بار بار انٹر نیٹ خد مات منقطع کردینے سے طلبہ اور تاجروں کو کافی ذہنی کوفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ سیاحوں کو اسکی وجہ سے پریشانی لاحق ہوتی ہے ۔جنوبی کشمیر کے شوپیان ضلع میں گزشتہ ایک ہفتے سے تیز رفتار والی موبائیل انٹر نیٹ خد مات منقطع ہیں ،جسکی وجہ سے طلبہ اور تاجروں کو ذہنی کوفت کا سامنا ہے ۔مقامی طلبہ اور تاجروں کا کہنا ہے کہ فور جی موبائیل انٹر نیٹ خد مات منقطع رہنے سے وہ وقت پر ضروری معمولات حاصل نہیں کر پاتے ہیں ۔طلبہ نے بتایا کہ وہ مختلف قومی مسابقتی امتحانات کی تیاریوں میں مشغول ہیں،تاہم وہ انٹر نیٹ کیلئے جو معلو مات حاصل کرتے تھے ،وہ حاصل نہیں کر پاتے ہیں ۔ان کا کہناتھا کہ انٹرنیٹ پچھلے کچھ عرصے سے نہ صرف ہمارے معاشرے میں رائج ہو چکا ہے بلکہ اسے عام کرنے کی حکومتی پالیسی کے نتیجے میں عوام الناس میں اس کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے اور اسکی کئی وجوہات بھی ہیں ۔ان کا کہناتھا کہ اُنہیں امتحانات میں حصہ لینے سے قبل تیاری کرنے میں کافی آسائش ہوا کرتی تھی ،لیکن موبائیل انٹر نیٹ خد مات منقطع رہنے سے وہ لازمی انفارمیشن حاصل نہیں کر پاتے ہیں ،جسکی وجہ سے اُنکی پڑھائی بھی متاثر ہوتی ہے ۔ایک تاجر نے کہا کہ وہ اپنے کاروبار کو فروغ دینے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہیں ،لیکن بار بار انٹر نیٹ خد مات منقطع رہنے سے اُن کا کاروبار متاثر ہوارہا ہے ۔انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا کہ بغیر انٹر نیٹ کے بغیر نقدی لین دین کو کیسے ممکن بنایا جاسکتا ہے ؟۔ادھر شمالی ضلع کپوارہ میں طلبہ نے پیر کے روز احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ضلعے میں تیز رفتاری والی مو بائل انٹر نیٹ خد مات بحال کی جائیں ۔انہوں نے کہا کہ وہ کئی طرح کے مسابقتی امتحانات کی تیاری کررہے ہیں ،تاہم موبائیل انٹر نیٹ خد مات منقطع رہنے سے اُنہیں مشکلات کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے ۔انہوں نے گور نر این این ووہرا سے مداخلت کی اپیل کی ۔11جولائی کو ضلعے میں تیز رفتار موبائل انٹر نیٹ خد مات منقطع کردی گئیں ۔یہ خد مات ترہگام میں فوج کے ہاتھوں خالد ملک نامی نوجوان کی ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہروں کے خد شات اور افواہیں روکنے کیلئے بند کی گئیں ۔انہوں نے کہا کہ تین روز قبل یہاں معمولات زندگی بحال ہوگئے اب موبائل انٹر نیٹ خد مات بھی بحال ہونی چاہئے ۔طلبہ کا کہنا ہے کہ پانچ روز ہوگئے اُنہیں اس سہولیت سے محروم رکھے ہوئے ۔ادھر عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ہماری روزمرہ زندگی میں بھی انٹرنیٹ کا عمل دخل بہت بڑھ جائے گا۔ مثلاً لین دین، لوگوں کے ساتھ تعلقات، معلومات کا حصول، خریداری وغیرہ شامل ہے ۔

Share This Article