7جو لائی کیلئے کشمیر بند کی کال ،انتقام گیری پالیسیاں غیرت کو للکارنے کے مترادف
سرینگر:٦،جولائی :/ مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے آسیہ اندرابی اور ان کی دو سینئر ساتھی فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نصرین کو گرفتار کرکے دہلی منتقلی کو بزدلانہ کارروائی سے تعبیر کیا ۔انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی طرف سے عملائی گئی ایسی انتقام گیر پالیسیوں کو جذبۂ آزادی سے سرشار ریاستی عوام کے غیرت اور حمیت کو للکارنے کے مترادف ہے ۔کے این این کو بھیجے گئے تحریری بیان کے مطابق مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ ڈاکٹر محمد عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے بھارت کی قومی تحقیقاتی ایجنسی NIAکے ہاتھوں رواں تحریک مزاحمت کی خاتون راہنما سیدہ آسیہ اندرابی اور ان کی دو سینئر ساتھی فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نصرین کو گرفتار کرکے دہلی منتقل کرنے کی بزدلانہ کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے انتظامیہ کی طرف سے عملائی گئی ایسی انتقام گیر پالیسیوں کو جذبۂ آزادی سے سرشار ریاستی عوام کے غیرت اور حمیت کو للکارنے کے مترادف قرار دیا۔ مزاحمتی قیادت نے جموں کشمیر کی حریت پسند خواتین راہنماؤں کے خلاف روا رکھی گئی سینہ زوری اور فسطائیت کے خلاف 7؍جولائی سنیچر مکمل ہڑتال کے ذریعے مہذب دنیا کے سامنے اپنا پُرامن احتجاج درج کرنے کی دردمندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہماری مخلص خواتین راہنماؤں کو دہلی کے تہاڑ جیل میں عمر بھر کے لیے قیدوبند کی صعوبتوں میں مبتلا رکھنے کی شرمناک سازشیں کشمیری قوم کے لیے قابل قبول نہیں ہوسکتیں۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے حز ب کمانڈربرہان وانی کے علاوہ 2016کی عوامی تحریک کے دوران 126شہداء سمیت جملہ شہدائے کشمیر کو اپنی مظلوم قوم کی طرف سے شاندار خراج عقیدت ادا کرنے اور دنیائے انسانیت کے سامنے تحریک حقِ خودارادیت کے حق میں اپنے والہانہ لگاؤ اور عقیدت کا واشگاف اظہار کرنے کے لیے 8؍جولائی اتوار ریاست گیر ہڑتال کرکے اس روز سول کرفیو نافذ کرنے کی دردمندانہ اپیل کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایک کمزور قوم کی حیثیت سے بھارت کے بے تحاشا ظلم وجبر کے خلاف اپنی زبردست ناراضگی اور پُرامن احتجاج کرنے کے لیے ہمارے پاس اور کوئی چارہ موجود نہیں ہے۔ مزاحمتی قیادت نے NIAکے ڈھونگ کو طشت از بام کئے جانے کی ضرورت کو اُجاگر کرنے کے لیے حریت پسند عوام بالخصوص اپنی نوجوان نسل سے دردمندانہ اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ان حالات میں جب کہ بھارت ہماری جدوجہدِ آزادی کے صفوں کے اندر آپسی اختلافات کو ہوا دینے کی ہر ممکن حربہ آزمانے کے لیے پرتول رہا ہے اور یہاں ایک بدترین قسم کی خانہ جنگی کو مسلط کرنے کی مذموم کوششوں میں لگا ہوا ہے، ہم سب پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ ہم اپنے مقدس لہو سے سینچی ہوئی تحریکِ حقِ خودارادیت کے صفوں میں اتحادواتفاق کو برقرار رکھتے ہوئے بھارت کی قابض افواج، نیم فوجی دستوں، پولیس ٹاسک فورس، سول انتظامیہ اور انٹلی جنس ایجنسیوں کی طرف سے استعمال کئے جانے والے سامراجی حربوں کو ناکام ونامراد بنانے کے لیے کمر بستہ ہوجائیں۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت نے دہلی کے تہاڑ جیل میں سینئر حریت پسند راہنماؤں کو NIAکے اشاروں پر دہلی کے تہاڑ جیل کی انتظامیہ کے ہاتھوں بدترین قسم کی انتقام گیری کا شکار بناتے ہوئے انہیں مختلف حیلے بہانوں کے ذریعے تنگ طلب کرنے، انہیں ذہنی کوفتوں میں مبتلا کرنے اور جیل کی بنیادی سہولیات سے محروم رکھے جانے کی ظالمانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ان عظیم راہنماؤں بشمول شبیر احمد شاہ، الطاف احمد شاہ، ایاز اکبر، شاہد الاسلام، پیر سیف اللہ، راجہ معراج الدین کلوال، نعیم احمد خان، فاروق احمد ڈار، شاہد یوسف، محمد اسلم وانی اور ظہور احمد وٹالی کے علاوہ مسرت عالم بٹ، ڈاکٹر غلام محمد بٹ، مظفر احمد ڈار، ڈاکٹر محمد قاسم، ڈاکٹر محمد شفیع شریعتی، غلام قادر بٹ، نذیر احمد شیخ، طارق احمد، منظور احمد، غلام محمد خان سوپوری، سراج الدین میر، میر حفیظ اللہ، محمد یوسف میر، امیر حمزہ شاہ، محمد یوسف فلاحی، عبدالغنی بٹ، سرجان برکاتی، شکیل احمد یتو، عبدالرشید مغلو، فاروق توحیدی وغیرہ کے جذبۂ حریت کو عقیدت کا سلام ادا کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا قابض فوجی یا سیاسی انتظامیہ ہو یا NIAکی طرف سے حریت پسند قائدین کے خلاف بے بنیاد اور من گھڑت کردار کُشی کی مہم ہو اس سے ہمارے حریت پسند عوام اور قیادت کے جذبۂ حریت کو رتی بھر متاثر نہیں کیا جاسکتا۔ مزاحمتی قیادت نے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن، ایمنسٹی انٹرنیشنل، عالمی ریڈکراس اور دیگر عالمی اداروں سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کی طرف سے متنازعہ ریاست جموں کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں کے علاوہ قید خانوں میں اسیران بے تقصیر کے ساتھ بدترین قسم کی ایذا رسانیوں کا خود مشاہدہ کرنے کے لیے نہ صرف ریاست جموں کشمیر، بلکہ ان جہنم نما قید خانوں کا دورہ کرنے کے لیے بھارتی انتظامیہ پر اپنا سیاسی اور سفارتی اثر ورسوخ استعمال کریں۔ مزاحمتی قیادت کے ایک ترجمان نے جملہ شہدائے کشمیر کے حق میں دعائیہ مجالس کا اہتمام کرنے پر جملہ ائمہ مساجد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ قابض انتظامیہ کی طرف سے بیشتر مزاحمتی راہنماؤں بشمول سید علی گیلانی، محمد یٰسین ملک، محمد اشرف صحرائی اور بلال صدیقی کو اپنے گھروں یا پولیس تھانوں میں نظربند کئے جانے اور جامع مسجد سرینگر کے ارد گرد فوجی حصار قائم کرکے نماز جمعہ کی ادائیگی پر روک لگانے کی آمرانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے ظلم وجبر کے سبھی ہتھکنڈوں کو بروئے کار لانے کے باوجود کاروانِ تحریک حقِ خودارادیت کو روکنا بھارت کے لیے ایک ناممکن بات ہے کے این این

