سری نگرمیںمرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کی زیرصدارت سیکورٹی جائزہ میٹنگ

By
5 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

عوام کوباختیار بنانے میں مسائل کاحل مضمر

صادق انتظامیہ سے امن واستحکام ممکن،اچھی حکمرانی اورجوابدہ انتظامیہ پر توجہ مرکوز
مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے واپس نئی دہلی روانہ ہونے سے قبل جمعرات کوسری نگرمیں ایک اعلیٰ سطحی سیکورٹی جائزہ میٹنگ کے دوران امن وقانون کی مجموعی،جنگجوگروپوں کی سرگرمیوں ،سیاسی غیریقینیت ،دراندازی کے واقعات اورسالانہ امرناتھ یاتراکیلئے کئے گئے حفاظتی ودیگرانتظامات کاجائزہ لیاجبکہ انہوں نے گورنراین این ووہرانے موجودہ ریاستی انتظامیہ کے کام کاج کے بارے میں بھی جانکاری حاصل کی ۔خراب موسمی صورتحال کے پیش نظرامرناتھ گھپاکادورہ نہ کرپانے کے باعث مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ واپس نئی دہلی روانہ ہوگئے ۔کے این این کومعلوم ہواکہ بدھ کی سہ پہرقومی سلامتی کے مشیراجیت کمارڈوئول ،مرکزی داخلہ سیکرٹری اوردیگرکچھ مرکزی حکام کے ہمراہ2روزہ دورے پرپہنچنے کے بعدمرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے شام کے وقت ریاستی گورنراین این ووہراکیساتھ میٹنگ کے دوران مخلوط سرکارگرجانے کے بعد جموں وکشمیرمیں پیداشدہ سیاسی صورتحال اوردیگرمعاملات کے بارے میں جانکاری حاصل کی ۔جمعرات کی صبح مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے سری نگرمیں سیکورٹی جائزہ میٹنگ کی صدارت کی ،جس میں قومی سلامتی کے مشیراجیت کمارڈوئول ،مرکزی داخلہ سیکرٹری راجیوگوبا،ریاستی گورنراین این ووہرا،ریاستی چیف سیکرٹری ،مرکزی وزرات داخلہ کے جوائنٹ سیکرٹری برائے جموں وکشمیرگنیش کمار،فوج ،فورسز،جموں وکشمیرپولیس اورمختلف سراغ رساں وخفیہ اداروں کے اعلیٰ افسران بھی موجودتھے ۔معلوم ہواکہ اس اہم ترین سیکورٹی جائزہ میٹنگ کے دورا ن جنگجوئیانہ وعلیحدگی پسندانہ سرگرمیوں ،جنگجومخالف کارروائیوں ،نوجوانوں کے جنگجوگروپوں میں شامل ہونے کے رُجحان ،سنگباری کے واقعات اوردراندازی کی کوششوں کے بارے میں تبادلہ خیال ہوا،اوراس دوران مختلف سیکورٹی وخفیہ ایجنسیوں کے افسروں نے پُرتشدد واقعات اورعلیحدگی پسندانہ سرگرمیوں کے بارے میں مرکزی وزیرداخلہ کے سامنے خاکہ پیش کیا۔سیکورٹی حکام نے میٹنگ کے دوران بتایاکہ کشمیروادی میں گرچہ مختلف جنگجوگروپ سرگرم ہیں تاہم آپریشن آل آئوٹ کے بعدجنگجوئوں پرسیکورٹی ایجنسیاں حاوی ہیں ،اوراسکے نتیجے میںحالیہ کچھ برسوں کے دوران بالعموم اورواں برس میں بالخصوص بڑی تعدادمیں سرگرم جنگجوبشمول کئی اہم کمانڈرمارے گئے ۔سیکورٹی حکام نے بتایاکہ نوجوانوں میں ملی ٹنسی کے تئیں رُجحان بتدریج کم ہوتاجارہاہے جبکہ نوجوان تشددکاراستہ چھوڑکرواپس اپنے گھروں کولوٹ رہے ہیں ۔معلوم ہواکہ میٹنگ کے بعدمرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے سماجی رابطہ گاہ ٹویٹرپرلکھے ٹویٹس میں کہاکہ ایک ترقی یافتہ اور خوشحال جموں وکشمیر کا خواب صرف امن اور امان سے شرمندہ تعبیر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کا پختہ عزم ہے کہ ریاست میں ایک دیانتدار اور موثر انتظامیہ کے ذریعہ امن، استحکام اور خوشحالی لائی جائے۔راجناتھ سنگھ نے کہا ’جموں وکشمیر میں گورنر اور ریاستی انتظامیہ کے ساتھ ایک میٹنگ میں ریاست کی صورتحال کا جائزہ لیا اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا‘۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ایک ترقی یافتہ اور خوشحال جموں وکشمیر کا خواب صرف امن اور امان سے شرمندہ تعبیر ہوگا۔ایک ٹویٹ میں راجناتھ سنگھ کہنا تھاکہ ایک ترقی یافتہ اور خوشحال جموں وکشمیر کا خواب اْس وقت پورا ہوگا جب ریاست میں امن اور امان کی بحالی ہوگی۔مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ ایک دیانتدار اور موثر انتظامیہ کے ذریعہ ریاست میں امن، استحکام اور خوشحالی لانا مرکزی حکومت کا پختہ عزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عام لوگوں کے لئے ترقی اور اچھی حکمرانی ایک خواب بن کر رہ گئی تھی۔ راجناتھ سنگھ نے کہا کہ مرکزی حکومت نظام میں احتساب ، شفافیت اور اچھی حکمرانی کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن قدم اٹھانے کا عزم رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت اچھی حکمرانی اور ترقی کی بدولت اہلیان ریاست میں نئی خواہشات اور امیدیں پیدا کرنے کا کام کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسائل کا حل لوگوں کو بااختیار بنانے اور مقامی خود حکمرانی کے اداروں کو مستحکم بنانے میں پنہاں ہے۔دریں اثناء خراب موسمی صورتحال کے باعث چونکہ جمعرات کوبھی امرناتھ یاترامعطل رہی ،اسلئے مرکزی وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ طے شدہ پروگرام کے مطابق امرناتھ گھپانہیں جاسکے ،اوروہ جمعرات کوبعددوپہرواپس نئی دہلی روانہ ہوگئے

Share This Article