قرار داد 120ممبران ووٹ کی بھاری اکثریت کے ساتھ منظورکی گئی ،8ووٹ مخالفت میں آئے
سرینگر:۱۴،جون:/ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطینیوں کی حمایت میں پیش کی جانے والی قرار دادر کو منظور کرتے ہوئے اسرائیل کو غزہ میں جاری پْرتشدد واقعات کا ذمہ دار ٹھہرادیا اور طاقت کے استعمال کو افسوس ناک قرار دیا ہے۔کے این این مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق قرارداد پیش ہونے سے قبل امریکا نے مطالبہ کیا تھا کہ اس قرارداد میں اسرائیلی فورسز پر ہونے والے حملے کی بھی مذمت شامل کی جائے تاہم اس امریکی درخواست کو مسترد کردیا گیا۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق عرب ممالک کی جانب سے الجزائر اور ترکی نے اقوامِ متحدہ میں قرار داد پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے جائیں۔اقوامِ متحدہ کی193 ممبران پر مشتمل جنرل اسمبلی میں 120 ووٹ کی بھاری اکثریت کے ساتھ فلسطینیوں کے حق میں پیش کی جانے والی یہ قرارداد منظور ہوئی جبکہ 8 ووٹ اس قرار داد کی مخالفت میں آئے۔خیال رہے کہ رواں برس مارچ میں شروع ہونے والے نئے مظاہروں میں اب تک سیکڑوں فلسطینی جاں بحق جبکہ بڑی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں جبکہ اس دوران ایک بھی اسرائیلی زخمی نہیں ہوا۔اقوامِ متحدہ میں امریکی مندوب نکی ہیلی نے شکست خوردہ انداز میں اس قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے اسے یک طرفہ قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ عرب ممالک اپنے خطے میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کرنا چاہتے ہیں، اسی لیے یہ قرارداد پیش کی گئی۔اس موقع پر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی مندوب ریاض منصور کا کہنا تھا کہ ’ہم صرف ایک ہی چیز کا مطالبہ کر رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے شہری محفوظ ہوں‘۔خیال رہے کہ اسرائیل اور غزہ میں موجود تنظیم حماس کے درمیان ماضی میں بھی جنگیں ہوچکی ہیں، تاہم اب قوامِ متحدہ کی جانب سے مزید ایک جنگ کے خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے۔خیال رہے کہ فلسطینیوں کی جانب سے 30 مارچ سے1948 سے ان کی سرزمین چھن جانے اور انہیں اپنی زمین سے بے دخل کیے جانے کے 70 سال مکمل ہونے پر رواں برس 30 مارچ سے اسرائیل کے ساتھ سرحد پر احتجاجی مظاہرہ جاری ہے، جہاں وہ اپنی زمین کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔اسی روز غزہ کی پٹی میں سرحدی باڑ پر احتجاج کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 15 فلسطینی جاں بحق اور 1400زخمی ہوگئے تھے جو 2014 کے بعد ایک روز میں پیش آنے والے بدترین واقعات میں سے ایک ہے۔اس سے قبل فلسطین میں امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے اور اس کے افتتاح کے خلاف احتجاج کرنے والے نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی وحشیانہ فائرنگ اور تشدد سے58 افراد جاں بحق اور 2400 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔اے ایف پی کے مطابق30 مارچ سے جاری مظاہروں کے دوران اسرائیلی شیلنگ سے اب تک غزہ میں 129 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔

