بات چیت سے ہی راہیں نکل سکتی ہیں
سرینگر؍14؍جون؍ جے کے این ایس ؍ آرمی چیف جنرل بپن راوت نے اعتراف کیا ہے کہ کشمیر کا تنازع طاقت سے حل نہیں ہوسکتا، اسی لیے مقبوضہ وادی میں امن کو ایک موقع دینا چاہیے۔فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کشمیر میں جاری شورش کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔جے کے این ایس مانٹرنگ کے مطابق ایک انٹرویو کے دوران فوجی سربراہ بپن راوت کا کہنا تھا کہ مذاکرات ضرور ہونے چاہیءں، کیونکہ مسئلہ ایسا ہے کہ مقامی افراد علیحدگی پسندوں کے ساتھ شامل ہورہے ہیں، ہم جتنے کشمیریوں کو مارتے ہیں،اس سے کئی زیادہ ان گروہوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ مقامی لوگوں کو عسکری جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ شامل ہونے سے نہیں روکا جاسکتا، اسی لیے ’امن کو ایک موقع دے کر دیکھا جائے‘۔ نوجوان کو ’انسانی ڈھال‘ کے طور پر اپنی جیپ کے آگے باندھنے والے بھارتی فوج کے میجر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جنرل بپن راوت کا کہنا تھا کہ میں نے اس حوالے سے اپنا سخت بیان دیا تھا کہ اگر بھارتی فوج کے میجر قصور وار پائے گئے تو انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔

