مطالبات کے حق میں ضلع گاندربل میں ایس ایس اے اساتذہ کا احتجاجی مظاہرہ

By
5 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

ایس ایس اے سیلری کو ڈی لنک کرنے اور7thپے کمیشن کو لاگو کرنے کی مانگ۔عید کے روز سرینگر کی پرتاب پارک میں احتجاج کی کال

گاندربل: پوری ریاست کے ضلع صدر مقامات پراساتذہ نے آج احتجاجی ریلیاں نکالیں اور ایس ایس اے اساتذہ کو ساتویں پے کمیشن کی فوری واگذاری اور اْن کے تنخواہوں کو سٹیٹ سیکٹر کے ساتھ جوڑنے کا مطالبہ کیا۔ جموں و کشمیررہبر تعلیم ٹیچرس فورم کے بینر تلے اساتذہ نے ضلع گاندربل میں بھی احتجاج کیا اور ایک ریلی نکالی ۔ نمائندے کے مطابق آج ضلع گاندربل سے وابستہ اساتذہ مرکزی عید گاہ دورہامہ میں جمع ہوئے اور اپنے جائیز مطالبات کو حل کرنے کیلئے زبردست نعرہ بازی کی اور سرکار پر واضح کر دیا کہ اگر سرکار نے فوری طور SSAکے مسلے کو حل نہ کیا تواحتجاجی پروگرام میں شدت لائی جائے گی۔ یہ احتجاج صرف اور صرفSSA کو ساتویں پے کمیشن کی فوری واگذاری اور اْن کے تنخواہوں کو سٹیٹ سیکٹر کے ساتھ جوڑنے کے لئے جموں و کشمیر رہبر تعلیم ٹیچرز فورم نے دیا تھا۔جموں و کشمیر رہبر تعلیم ٹیچرز فورم کے سربراہ فاروق احمد تانترے نے کہا کہ سرکار کو بلا کسی تاخیر کے SSAاساتذہ پراساتویں تنخواہ کمیشن کو لا گو کرنا چاہے اور سیلری کو سٹیٹ سیکٹر کے ساتھ جوڑ کر اس دیرنہ مسلے کو حل کرنا چاہئے ورنہ اْساتذہ اپنی جد وجہد میں شدت لائیں گے ۔ فورم چیر مین نے مزید کہا کہ اساتذہ کی فروری کی تنخواں بقایا ہے جو کہ چھٹے پیے کمشن کے حساب سے ملنی تھی لیکن سرکار کی طرف سے گذشتہ روز فروری کو بقایا رکھ کر اپریل کی تنخوائیں ریاست کے 22 متعقلہ چیف ایجوکیشن آفسران کے کھاتوں میں چھٹے پیے کمشن کے حساب سے ڈالی ہیں جو کہ ساتویں پیے کمشن کے حساب سے اْنہیں ملنی تھی ۔ اْنہوں نے کہا ہے کہ سرکار کی اْنہوں نے کہا ہے کہ سرکار کی طرف سے جاری اس ہٹ دھرمی کی وجہ سے کئی اساتذہ ذہنی قوفت میں مبتلاء ہو گئے ہیں ۔اْنہوں نے کہا کہ اس سرکار نے اساتذہ کو خودکشی کر نے پر مجبور کر دیا ہے جو کہ قابل افسوس ہے ۔ اْنہوں نے کہا کہ سرکار اس آڈر کو فوری طور پر واپس لیکر ساتویں پیے کمشن کے حساب سے ریاست کے اکتالیس ہزار اساتذہ کی تنخوائیں واگذار کریں ۔ اس نے مزید کہا ہے کہ اگر سرکار کو ساتویں پیے کمشن کے لئے فوری طور پر رقومات کا انتظام کر نے میں کوئی دشواری پیش آ رہی ہے تو وہ اس رقم کو اپریل مہینے کے بجائے فروری ماہ کی بقایا تنخواہ کے تحت واگذار کریں تاکہ چار ماہ سے تنخواوں سے محروم اساتذہ کے بچے بھی کسی حد تک عید منا سکیں تانترے نے کہا کہ SSAاساتذہ کو ساتویں پے کمیشن نہ دینا ایک غیر قانونی اور دوہرا معیارہے جسکو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا انہوں نے عید کے روز سرینگر کی پرتاب پارک میں عید کو سرکار کے خلاف احتجاج کی شکل میں منانیکا فیصلہ کیا ہے ان کا کہنا ہے کہ ایس ایس اے اساتذہ جنہوں نے چھٹا پیے کمشن بھی لیا ہے سروس ریکارڈ میں بھی شامل ہیں ان میں سے کچھ پروموشن پا کر ماسٹر گریڈ بھی بن چکے ہیں لیکن آج محکمہ کی طرف سے اکتالیس ہزار اساتذہ کو ساتویں پیے کمشن کے اطلاق سے باہر رکھنا سرکار کی پالیسی کے اوپھر سوالیہ نشان لگاتا ہے ۔ اْنہوں نے وزیر اعلی محبوبہ مفتی ، وزیر تعلیم اور وزیر خزانہ سے اپیل کی ہے کہ تنخواں کے لئے واگذار کی گئی رقم کو فروری کی بقایا تنخواں کے تحت ادا کیا جائے اور اپریل ماہ کی تنخواں اْنہیں ساتویں پیے کمشن کے حساب سے ادا کی جانی چاہئے تاکہ اساتذہ کو ذہنی پریشانیوں کا سامنا نہ کر نا پڑے ۔ اْنہوں نے ے مزید کہا ہے کہ یہ سروس رولز کی سراسر خلاف ورزی ہے اور اساتذہ اسے کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کریں گے ۔۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس حساس معاملے میں ذاتی دلچسپی دیکر اس مسلئے کو بروقت حل کرنے کے لئے احکامات صادر کریں اور اْساتذہ کو سڑکوں پر آنے کے لئے مجبور نہ کریں۔اس موقع پر عید گاہ سے لیکر منی سیکٹریٹ تک احتجاجی جلوس نکال کر ضلع ترقیاتی کمشنر گاندربل کو یادداشت پیش کی گئی۔

Share This Article