جنگجوؤں اور فورسز کے درمیان7گھنٹے کے بعد گولیوں کا تبادلہ رُک گیا
بانڈی پورہ:۱۲،جون:/ بانڈی پورہ کے وسیع جنگلات میں جنگجو ؤں کے خلاف گزشتہ 4روز سے جاری آپریشن کے دوران منگل کے روز طرفین کے مابین مسلسل 7گھنٹے تک جاری رہنے والا گولیوں کا تبادلہ رُک گیا ہے ،تاہم علاقے میں تلاشی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق بانڈی پورہ کے جنگلات میں جنگجوؤں کے خلاف چوتھے روز بھی آپریشن جاری رہا ۔ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ گھنے جنگلات میں جنگجوؤں اور فوج وفورسز کے درمیان مسلسل سات گھنٹوں تک جاری رہنے والی فائرنگ منگلوار کے روز رک گئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ سنیچر وار کے روز مشکوک نقل وحرکت کے دوران دیکھی گئی ،جس کے بعد پانار جنگلات میں وسیع پیمانے پر جنگجوؤں کے خلاف آپریشن شروع کیا گیا ۔معلوم ہوا ہے کہ تلاشی کارروائی کے دوران گھنے جنگلات میں فوج اور جنگجوؤں کے درمیان گولیوں کا تبادلہ شروع ہوا ،جو مسلسل 7گھنٹے تک جاری رہا ۔معلوم ہوا ہے کہ بانڈی پورہ کے جنگلات میں 15جنگجوؤں کا ایک گروپ موجود ہے ،جن کے خلاف فوج ،ایس او جی اور دیگر فورسز اہلکاروں کے علاوہ فوجی کمانڈوز وپیرا اہلکار وں نے وسیع پیمانے پر تلاشی کارروائی کاسلسلہ جاری ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بیشتر جنگجو فوج وفورسز محاصرہ کا محاصرہ توڑنے میں کامیاب ہوئے اور فرار ہوگئے جبکہ دو جنگجوؤں نے گزشتہ2روز سے فوج وفورسز اہلکاروں کو الجھاکے رکھا ۔یاد رہے کہ سنیچر کی شام کو پانار جنگلات بانڈی پورہ میں اُس وقت جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا گیاجبکہ جنگجوؤں نے 14آر آر کی ایک گشتی پارٹی پر فائرنگ کی گئی ۔فوج نے اس کے بعد دیگر جنگلی علاقوں جن میں بٹھو ،ویون ،ساریندر ،کدارا ،آراگام اور اجس شامل ہے ،میں جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا گیا ۔ابتدائی آپریشن کے دوران جنگجوؤں اور فوج کے درمیان آمنا سامنا ہوا جبکہ گولیوں کے تبادلے میں2اہلکار زخمی ہوئے،جو اس بادامی باغ سرینگر میں واقع 92فوجی اسپتال میں زیر علاج ہیں ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ شمالی کشمیر میں 26مئی سے 11جون تک جنگجوؤں اور فوج کے درمیان خونین معرکہ آرائیوں میں 16جنگجو اور ایک فوجی لقمہ اجل بن گئے۔

