کرناہ ،ماگام ،سوپور اور دیگر کئی علاقوں میں پانی کی عدم دستیابی پر لوگوں کے احتجاجی دھرنے
سرینگر،کرناہ،ماگام،سوپور:۹،جون:/ وادی کشمیر میں ماہ رمضان کے دوران پانی کی عدم دستیابی کے سبب بحرانی صورتحال پیدا ہوگئی ،جس دوران شمال جنوب میں مرد وزن نے سڑکوں پر نکل کر صدائے احتجاج بلند کی ۔احتجاجی مظاہروں اور دھرنوں کے باعث کئی سڑکوں اور شاہراہوں پر گھنٹوں ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی جبکہ لوگوں نے الزام عائد کیا کہ پانی کی سپلائی بحال کرنے میں محکمہ پی ایچ ای لیت ولعل کا مظاہرہ کررہا ہے ۔اس سلسلے میں کشمیر نیوز نیٹ ورک کو ملی تفصیلات کے مطابق سرحد پار سے اہلیان کرناہ کیلئے پانی کی سپلائی منقطع ہونے کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول کے نزدیک واقع سرحدی تحصیل کرناہ کے گاؤں سید پورہ میں پانی کی عدم دستیابی کے سبب خشک سالی جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سینچائی کیلئے درکار پانی کی فراہمی بند ہونے سے فصلیں تباہ ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔ادھر نار بل ۔گلمرگ روڑ پر لوگوں نے پانی کی عدم دستیابی پر دھرنا دیا جسکی وجہ سے یہاں ٹریفک کی آوا جاہی بری طرح سے متاثر ہوئی جبکہ سوپور میں بھی پانی کی عدم دستیابی پر خواتین نے احتجاجی دھرنا ۔اس کے علاوہ وادی کے دیگر درجنوں علاقوں سے بھی لوگوں نے پانی کی سپلائی منقطع کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا ۔سید پورہ کرناہ گاؤں میں سرحد پارسے پانی کی سپلائی منقطع ہونے کے باعث خشک سالی جیسی صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔مقامی لوگوں کے مطابق گاؤں کو پانی کی عدم دستیابی کے سبب شدید ترین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ کھیتوں کو سیراب کرنے کیلئے درکار پانی کی سپلائی سرحد پار سے اچانک بند کردی گئی ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ سرحد پارسے اُنہیں ہر سال کھیتوں کو سیراب کرنے اور استعما ل میں لانے کیلئے پانی سپلائی مہیا ہوا کرتی ہے ،لیکن بقول اُنکے اس سیزن یہ سپلائی نامعلوم وجوہات کی بنا ء بند کردی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سرحد پار سے سپلائی ہونے والے پانی کے استعمال پر روک لگ جانے سے اہلیان دیہات کو کافی ذہنی کوفت کا سامنا ہے ۔ایک شہری نے بتایا کہ ’’ہم سر حد کے آر پار لوگوں کی جانب سے منعقدہ معمول کی فلیگ میٹنگ کے بعد دونوں اطراف پانی کا استعما ل کرتے تھے جبکہ اس فلیگ میٹنگ میں سیول اور ملٹر ی حکام بھی شامل ہوتے تھے ،لیکن اس سال سر حد پار سے پانی کی سپلائی نامعلوم وجوہات کی بنا پر روک دی گئی ہے ‘۔انہوں نے کہا کہ پانی پر روک کے نتیجے میں ہمارے لئے صورتحال تباہ کن بن گئی ہے ۔ایک اور شہری کا کہنا ہے کہ ہم نے پہلے ہی سیول اور ملٹری حکام کو اپنے تحفظات سے آگاہ کیا ،اس امید کے ساتھ کہ مسئلے فوری طور پر حل کیا جائیگا ۔کنڈی دیہات میں لوگوں کی ایک خاصی تعداد کھیتی باڑی پر انحصار کرتی ہے جبکہ یہاں سینکڑوں کنال اراضی پاکستان سے آنے والے پانی سے سیراب ہوتی ہے ،لیکن اب خدشات پیدا ہوگئے کہ سینکڑوں کنال اراضی خشک ہی رہے گی ۔ان کا کہناتھا کہ اگر پانی کی سپلائی بحال نہیں ہوئی تھی ،تو فصلیں تباہ ہو جائیں گی ۔ایس ڈی ایم کرنا ہ ڈاکٹرالیاس نے کہا کہ وہ اس معاملے کو ملٹر ی حکام کے ساتھ اٹھائیں گے ۔بریگیڈ کمانڈر پی کے مشرا نے کہا ہے کہ وہ سر پنچوں ،نمبرداروں اور چوکیداروں کو اُسے پار کے اپنے ہم منصبوں سے مذاکرات کرنے کی اجازت دیں گے۔ادھر نار بل ۔گلمرگ روڑ پر ٹریفک کی روانی ہفتہ کو اُس وقت منجمند ہوئی جب کاؤسہ ماگام کے مقام پر لوگوں نے پانی کی عدم دستیابی پر احتجاجی دھرنا۔اطلاعات کے مطابق مرد وزن کی ایک خاصی تعداد سرینگر ۔گلمرگ شاہراہ پر نمودار ہوئی ،جہاں انہوں نے 2گھنٹوں سے زیادہ پانی کی عدم دستیابی پر دھرنا دیا اور ٹریفک کی نقل وحرکت مسدود کرکے رکھ دی ۔مظاہرین نے پی ایچ ای حکام کے خلاف نعرہ بازی کی ۔مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ حکام نے اُنکے مسائل کی جانب آنکھیں بند کردی ہے ۔انہوں نے کہا کہ پانی کی عدم دستیابی کے نتیجے میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے کہ جبکہ پانی کی سپلائی بحال کرانے کیلئے اُن کے پاس احتجاج واحد راستہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ حکام ہمارے مسئلے کی جانب اپنی توجہ مبذول کریں ۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ اُنہین سکھ ناگ دریاسے پانی کی سپلائی فراہم کی جاتی ہے ،لیکن گاؤں کو سپلائی کرنے والے نئی پائپ لائن نہیں بچھائی گئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ کم از کم30دیہات پانی کی سپلائی سے محروم ہیں جبکہ حال ہی میں ایک بچہ گندے پانی سے پیدا ہونے والی بیماری سے موت کی آغوش میں سوگیا ۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر پانی کی سپلائی بحال کی جائے ۔دریں اثناء اقبال مارکیٹ سوپور میں خواتین نے پانی کی عدم دستیابی پر احتجاجی دھرنا دیا ۔انہوں نے محکمہ پی ایچ ای کے خلاف نعرہ بازی کی ۔انہوں نے کہا کہ رمضان کے مقدس مہینے میں بھی لوگوں کو پانی کی بوند بوند کیلئے ترسنا پڑ رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ بارہا حکام کو آگاہ کیا گیا لیکن مشکلات کا ازالہ نہیں ہوا ۔حکام کا کہنا ہے کہ پانی کی پایپ سے پانی کا خراج سے پانی کی سپلائی متاثر ہوئی ،جسکی مرمت کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں ۔ادھر وادی کے دیگر درجنوں علاقوں سے بھی لوگوں نے پانی کی عدم دستیابی پر شکایات کیں ۔
