سوپور /4جون / جموں وکشمیر شمع فاونڈیشن کے زیر اہتمام ومنزکالج سوپور کے اشتراک سے اسکول احاطے میں یک روزہ سمینار بعنوان ’’نزول قرآن اور حقوق نسوان ‘‘منعقد کیا گیا جس میں دانشوروں ،علماء ،صحافیوں اور اساتذہ کے علاوہ طالبات کی ایک خاصی تعداد نے شرکت کی ۔پروگرام کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہو ا تلاوت کا فریضہ کالج کے پروفیسرنصیر احمدنے انجام دیا ۔جبکہ نظامت کے فرائض بھی انجام دیئے اس کے بعد کالج کی طالبہ سمیہ صادق نے نعت بحضور سرور کائنات ؐ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی ۔اس کے بعد معروف اسکالر ڈاکٹر حمید نسیم رفیع آبادی نے شمع فانڈیشن کا مختصر تعارف پیش کیا اور منتخب عنوان پر اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسلام نے عورت کو ایک اعلیٰ مقام سے سرفراز کیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ تمام مذاہب کا مطالعہ کرنے کے بعد واضح ہوتا ہے کہ اسلام نے جس طرح عورت کے عظمت و شان کو اُجاگر کیا ہے اس طرح کسی مذہب میں پایا نہیں جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ کئی مذاہب آج بھی عورت کی شان میں گستاخی کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ خواتین پردے کے اندر تمام شعبوں میں اپنا رول ادا کرسکتی ہیں ۔انہوں نے ایک تجویز دیتے ہوئے کہا کہ جس طرح دیگر ممالک میں عورتوں کیلئے مساجد میں الگ گوشہ ہوتا ہے اسی طرح یہاں بھی خواتین کیلئے الگ گوشہ مقرر کیا جائے تاکہ خواتین مساجد میں نماز ادا کرسکیں اور دینی تعلیم کا رجحان بڑھ سکے ۔اس موقعہ پر کالج کی طالبہ الفت نذیر نے عنوان پرمفصل و مددلل انداز میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔اس کے بعد غلام شاہ بادشاہ کے پروفیسرڈاکٹر نسیم گل نے اپنے خیلات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قران پاک مکمل ضابطہ حیات ہے جو اس کے مطابق چلا وہ کامیاب ہوا ۔انہوں نے صفحہ سامعین میں بیٹھے طالبات سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ عہد کریں کہ آپ ہر روز قرآن پاک ایک آیت کو ترجمہ کے ساتھ پرھانے کا معمول بنائیں تو 20 سال میں آپ قرات قرآن اور اس فہم سے واقف ہونگے ۔اس کے بعدمعروف ادیب وماہر تعلیم رشید آفاق نے اپنے خیالات کااظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے سماج میں بچیاں غیر محفوظ ہیں کیونکہ ہم ان کی عظمت و شان سے بے خبر ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ طالبات کو بتایا کہ وہ خود اپنی حفاظت کیلئے چوکنا رہے ۔اس کے بعد معروف عالم دین اور درالعلوم انوریہ سوپور کے مہتمم مولانا بشیر الدین نے فصیح وبلیغ انداز میں اپنے زریں خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ قرآن ہر ایک کیلئے راہ ہدایت ہے اور یہ وہ کتاب ہے جس کی حفاظت کو اللہ رب العزت نے خود ہی ذمہ لیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ قرآن کریم میں اوضح ہے کہ زمانہ قدیم میں جب بیٹیاں پیدا ہوتی تھیں توان کے والدین کے چہرے سیاہ ہوجاتے تھے ۔انہوں نے مومنہ اور پاکباز خواتین بشمول حضرت عائشہؓ ،حضرت خدیجہؓ اور حضرت زینب کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ان صحابیات اور ازواج مطہرات نے قرآن کو راہ نجات تصور کرکے عملی زندگی میں لایا تو وہ کامیاب ہوئے ۔ انہوں نے طالبات سے کہا کہ وہ قرآن کی طرف اپنی توجہ مبذول کرکے اپنی شان اور عظمت کو اُبھاریں اور دنیا وآخرت کی کامیابی کوحاصل کریں ۔اس کے بعد ایڈیٹر تعمیل ارشاد ناظم نذیر نے ’’نزول قرآن اور حقوق نسواں ‘‘ کے موضوع پراپنے خیالات کا اظہا ر کرتے ہوئے کہا کہ عورت ایک عظیم شئے ہے جس کے وجود سے تصویر کائنات میں رنگ ہے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ زمانے جہاں مسلمان غیروں کو ماڈل تصور کرتے ہیں وہیں وہ اسلامی تاریخ میں سنہرے حروف سے قلمبند کئے ہوئے ان عظیم خواتین کو جنہوں نے ہر میدان میں قرآن اور نبی ؐ کے اسوہ حسنہ کے مطابق زندگی بسر کرکے ہر دور خواتین کیلئے ماڈل بنی ہوئی ہیں ۔انہوں نے طالبات سے مخاطب ہوکر کہا کہ وہ اگر حضرت عائشہؓ ،حضرت خدیجہؓ اور حضرت فاطمہ وزینبؓ کو اپنا رول ماڈ ل بنائیں تو ان کی عظمت رفتہ بحال ہوجائے گی ۔اس کے بعد کالج پرنسپل پروفیسر عبدالمجید ڈار نے اپنے زریں خیالات کااظہار کرتے ہوئے قرآن پاک کا بگور مطالعہ کرکے تمام علوم پردست رس رکھنے پر زور دیا انہوں نے کہا کہ قرآن ہر شعبہ میں انسان کو رہنما ئی کرتا ہے اور یہ آفاقی پیغام سے مشعل راہ ہے ۔انہوں نے کہا کہ چودہ سو سال گذرنے کے باوجود بھی قرآن کی دی ہوئی تعلیمات و تجربات آج کے دور میں منکشف ہوتے ہیں ۔انہوں نے ڈاکٹر نسیم رفیع آبادی کے تائید کرتے ہوئے کہا کہ مساجد میں خواتین کیلئے گوشہ ہونا چاہئے تاکہ وہ بھی اس نعمت سرفراز ہوتے ۔انہوں نے اپنے خیالات کے دوران شمع فاونڈیشن اور ان کے کاکنوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس طرح کا انقلابی سمینار منعقد کرنے کیلئے ہمیں موقعہ فراہم کیا ۔آخر پر پروفیسر نثار احمد نے شکریہ کی تحریک پیش کی.

جموں و کشمیر شمع فونڈیشن کے زیر اہتمام وومنز کالج سوپور کے اشتراک سے کالج احاطے میں یک روزہ سمینارمنعقد

