عوام میں غلط فہمیوں کا ماحول پیدا کیا ہے
سرینگر؍04؍جون؍ ؍ کانگریس سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر کا کہنا ہے کہ ’’وزیر اعلیٰ نے کشمیر پر مذاکراتی عمل کے سلسلے میں مبہم بیان دے کر عوام میں غلط فہمیوں کا ماحول پیدا کیا ہے۔ اُن کو یہ بات صاف کرنی چاہئے کہ حریت کو ڈائیلاگ کی پیشکش کب اورکس طرح سے ہوئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے حریت سے صارف طورکہا ہے کہ وہ کشمیر پر مذاکرات کی پیشکش قبو ل کر کے خون خرابہ بند کریں۔ گویا حریت کو ڈائیلاگ کیلئے دعوت ملی ہے اور اُن کے دعوت قبول نہ کرنے کی وجہ سے کشمیر میں خون خرابہ جاری ہے۔ اس طرح سے گویا حریت نے اس پیشکش کو پوشیدہ رکھا ہوا ہے!۔ جے کے این ایس کے مطابق کانگریس کے سینئر لیڈر پروفیسر سیف الدین سوز نے کہاکہ وزیر اعلیٰ کا یہ بیان مبہم ہے کیونکہ انہوں نے یہ نہیں بتایا ہے کہ یہ پیشکش کب اور کس طریقے سے ہوئی ہے۔ اِدھر کچھ جانکار سول سوسائٹی ممبران نے مجھے بتایا کہ اس سلسلے میں متحدہ مزاحمتی قیادت(JRL) نے یہ بات بہت پہلے صاف کی ہے کہ وہ سیاسی سطح پر باقائدہ بات چیت کیلئے تیار ہے ۔ اس لئے وزیر اعلیٰ کا بیان مبہم ہی نہیں بلکہ غلط بھی ہے جس سے کشمیر میں بلا وجہ بہت ساری غلط فہمیاں پھیل سکتی ہیں۔دریں اثناء پی ڈی پی کو اپنا موقف اور زیادہ صفائی سے واضح کرنا چاہئے کہ یہ جماعت کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو کیسے دیکھتی ہے۔ کیا اُن کے خیال میں حریت کو کچھ مبہم اشارات پر اپنی سیاسی اچھل کود شروع کرنی چاہئے ؟کیا اس قیادت کو سیاسی سطح پر باقاعدہ طور دعوت نہیں ملنی چاہئے؟میں پی ڈی پی کو یہ خاص طور یاد دلانا چاہتا ہوں کہ جب مرکز نے 1986ء میں لال ڈینگا کے ساتھ میزورام کا مسئلہ حل کرنے کیلئے راستہ ہموار کیا تھا تو لال ڈینگا کو کھل کر اور باعزت طور دعوت دی گئی تھی اور اسی کے ساتھ میزورام کا جھگڑا ختم ہوا تھا ۔ کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ میزورام کے مقابلے میں کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیاہے؟ اس لئے کیا یہ لازم نہیں ہے کہ حریت کو باعزت اور باقاعدہ طور دعوت ملے تاکہ وہ کھل کر مذاکرات میں شامل ہو جائیں؟میرا خیال ہے کہ ریاستی وزیر اعلیٰ کو مذاکراتی عمل کے سلسلے میں اپنے خیالات کو پوری صفائی کے ساتھ ظاہر کرنا چاہئے۔ ‘‘

