چین کی جنوبی بحیرہ چین میں کارروائی سے کھڑے ہوئے سوال: میٹس

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سنگاپور، 2 جون: امریکہ نے کہا ہے کہ وہ چین کے ساتھ ‘نتائج لانے والی’ بات چیت کا خواہاں ہے لیکن جنوبی بحیرہ چین میں کی جا رہی کارروائی سے اس کی نیت پر سوال کھڑے ہوتے ہیں۔
امریکہ کے وزیر دفاع جم میٹس نے ہفتہ کو یہاں کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکہ ’پوری طاقت‘ کے ساتھ جواب دے گا۔
مسٹر میٹس نے سنگاپور میں سالانہ شنگریلا ڈائیلاگ کے اپنے خطاب میں مذکورہ بالاباتیں کہیں۔ امریکہ کے وزیر دفاع کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب جنوبی بحیرہ چین کو لے کر دونوں ممالک میں کشیدگی بڑھی ہوئی ہے. اس سے یہ بھی صاف ہو جاتا ہے کہ امریکہ کس طرح سے شمالی کوریا کے معاملے میں چین کے تعاون اور متنازعہ بحیرہ جنوبی چین میں اس کی سرگرمیوں پر توازن بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
مسٹر میٹس نے کہا’’جنوبی بحیرہ چین میں چین کی پالیسی ہماری حکمت عملی کے بالکل برعکس ہے. اس سے چین کے وسیع مقاصد پر سوال کھڑے ہوتے ہیں۔ "انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ جلد ہی چین کا دورہ کریں گے۔
انہوں نے کہا’’امریکہ چین کے ساتھ مثبت اور نتائج خیز تعلقات کو آگے بڑھانے کا خواہاں ہے لیکن جارحیت دکھانے کی ضرورت آن پڑے گی تو پوری طاقت کے ساتھ جواب دیں گے۔ امریکہ جنوبی بحر الکاہل میں امن میں چین کے کردار کو قبول کرتا ہے‘‘۔
رائٹر

Share This Article