قدیم دینی گاہ کی مرکزیت کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائیگا
سری نگر:یکم،جون:/ میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ تاریخی جامع مسجد سرینگرکے منبر و محراب عوام کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کا فریضہ انجام دیتا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جامع مسجد کی مرکزیت کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائیگا۔کے این این کے مطابق مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک اجتماع سے خطاب کے دوران حریت(ع)کے چیرمین میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام نے جب سے اپنے سلب شدہ حقوق کے حصول کی تحریک شروع کی ہے تب سے مرکزی جامع مسجد کا منبر و محراب یہاں کے عوام کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کا فریضہ انجام دیتا رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ چاہے وہ سکھ دور ہو یا ڈوگرہ راج جس دوران جامع مسجد کو متعدد بار بند کیا گیا کے مظالم کیخلاف آواز ہو یا ۱۹۳۱ء سے شروع کی گئی تحریک آزادی۔انہوں نے کہا کہ یہ جامع مسجد کے منبر ومحراب ہی ہیں جہاں سے حق و صداقت کی آواز بلند ہوتی رہی ہے اور گزشتہ ادوار سے لیکرآج تک کئی بار کشمیری مسلمانوں کے اس عظیم روحانی اور دینی مرکز کو کمزورکرنے کی کوشش کی گئی ۔ان کا کہناتھا کہ شہید ملت کے دور میں 25؍ اگست1989ء کو بدنام زمانہ آپریشن جامع مسجد کے ذریعہ اس مرکز کی بے حرمتی کی کوشش کی گئی اور آج تک درجنوں بار اس روحانی مرکز کو طاقت کے بل پر مقفل کیا گیا اور یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے کیونکہ یہ مرکز اُن قوتوں کی آنکھوں میں خار کی طرح کھٹکتا ہے جو چاہتے ہیں کہ یہاں سے کشمیریوں کے حقوق کے حق میں آواز بلند نہ ہو۔انہوں نے لوگوں سے تلقین کی کہ جتنی شدت کے ساتھ حکومت اور دیگر ایجنسیاں اس مرکز کو بند اور کمزور کرنے کی کوشش کریںآپ اتنی ہی زیادہ تعداد میں یہاں اپنی حاضری یقینی بنائیں تاکہ ان سازشوں کو ناکام بنایا جائے۔ان کا کہناتھا کہ ہم کیا چاہتے آزادی ، یہ ملک ہمارا ہے اس کا فیصلہ ہم کریں گے، جس کشمیر کو خون سے سینچا وہ کشمیر ہمارا ہے کے فلک شگاف نعروں کے بیچ میرواعظ نے اعلان کیا کہ کشمیریوں کی تحریک آزادی اسی روحانی مرکز سے شروع ہوئی ہے ، یہیں پہ پروان چڑھی ہیں اور یہیں پر کامیابی کے ساتھ اپنی اختتام کو پہنچے گی۔انہوں نے کہا کہ اس مرکز کی اہمیت اور مرکزیت کو ختم کرنے کے جو منصوبے رچائے جارہے ہیں بار بار شہر خاص میں کرفیو، بندشیں ، قدغنیں لگائی جارہی ہیں اور آج بھی لوگوں کو گاڑیوں سے زبردستی اتار کر یہاں آنے سے روکا گیا اور یہ سب حربے صرف اور صرف جامع مسجد کی مرکزیت کو کمزور کرنے کیلئے کئے جارہے ہیں اور عوام کو ان تمام حربوں سے ہوشیار رہنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ ہم بہ بانگ دہل حکومت وقت کو بتانا چاہتے ہیں کہ جامع مسجد کی مرکزیت کو کمزور کرنے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائیگا۔اس مرکز سے یہاں کے عوام کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی ہوتی رہی ہے اور ہوتی رہیگی۔ جناب میرواعظ نے کہا کہ ایک طرف یہاں کے عوام کیخلاف مار دھاڑ، قتل و غارتگری کا سلسلہ جاری ہے اور دوسری طرف ہمارے بے شمار کشمیری سیاسی قیدی کشمیر اور بھارت کے مختلف ریاستوں کی جیلوں میں اذیت ناک زندگی گزار رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس جو اعداد و شمار ہے ان کے مطابق تقریباً پچیس ایسے سیاسی قیدی ہیں جن میں ڈاکٹر محمد قاسم سنٹرل جیل سرینگر25سال ، جاوید احمد خان تہاڑ جیل21 سال، غلام قادر بٹ سنٹرل جیل21 سال، مرزا ناصر حسین تہاڑ جیل21سال، محمود ٹوپی والا تہاڑ جیل 21سال، علی محمد بٹ تہاڑ جیل21سال، لطیف احمد وازہ تہاڑ جیل 21سال، عبدالغنی گونی تہاڑ جیل21سال، غلام محمد بٹ سینٹرل جیل16سال، برکت علی خان جموں سینٹرل جیل15 سال، محمد اقبال خان جموں سینٹرل جیل15سال، محمد صدیق گجر جموں سینٹرل جیل15سال، سائیں محمد گجر جموں سینٹرل جیل15سال، مہندیاں گجر جموں سینٹرل جیل15سال، عبدالوحید نائک جموں سینٹرل جیل15۱ سال، فیرز احمد بٹ سرینگر سینٹرل جیل15سال، پرویز احمد میر سرینگر سینٹرل جیل15سال، شیخ عمران سینٹرل جیل سرینگر13سال، ڈاکٹر محمد شفیع خان سینٹرل جیل12سال، محمد اسلم ممبئی سینٹرل جیل12سال، عبدالحمید تیلی ممبئی سینٹرل جیل12سال، بلال احمد کوٹہ بنگلور سینٹرل جیل11سال،محمد عباس وانی سینٹرل جیل سرینگر 11سال، مقصود احمد بٹ سینٹرل جیل سرینگر11 سال، فاروق احمد شیخ سینٹرل جیل سرینگر10سال شامل ہیں اور ان لوگوں پر باربار بدنام زمانہ قوانین کا اطلاق کرکے ان کی مدت قید کو بلا وجہ طول دیا جارہا ہے ، اس کے علاوہ ہمارے جو قائدین تہاڑ جیل میں چھوٹی چھوٹی سیلوں میں مقید رکھے گئے ہیں وہاں ان کو اذیت ناک طریقے سے پیشہ ور مجرموں کے ساتھ رکھا جا رہا ہے اور اس طرح ان کی زندگیوں سے جان بوجھ کر کھلواڑ کیا جارہا ہے ۔ان قیدیوں میں شبیر احمد شاہ، ایڈوکیٹ شاہدالاسلام،ا لطاف احمد شاہ ، ایاز اکبر،معراج الدین کلوال، پیر سیف اللہ ، غلام محمد بٹ، ظہور احمد وٹالی ، شاہد یوسف ، فاروق احمد ڈارشامل ہیں جبکہ محترمہ آسیہ اندرابی، فہمیدہ صوفی، مسرت عالم بٹ، اور دیگر متعدد قیدی جو مختلف جیل خانوں میں اذیت ناک صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ان قیدیوں کے عزم اور حوصلے کو سلام پیش کرتے ہیں اور ہم ان لوگوں کو بھی نہیں بھولیں گے جنہوں نے اپنی زندگیاں اس تحریک کیلئے قربان کیں اور ان لوگوں کو بھی نہیں بھولیں گے جنہوں نے اپنی اٹھتی جوانیاں اس تحریک کی نذر کی۔ میرواعظ نے کہا کہ ایک طرف حکومت مذاکرات اور مسئلہ کو حل کرنے کی بات کررہی ہے اور دوسری طرف یہاں کے عوام کیخلاف ظلم اور جبر سے عبارت کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت یہاں کے حالات کو سنجیدگی کے ساتھ سدھار نے کے حق میں ہیں تو انہیں ایسے اقدامات اٹھانے چاہئیں جن سے حالات میں بہتری پیدا ہو سکے اور اسکے لئے ضروری ہے کہ جیلوں میں بند قیدیوں کو غیر مشروط رہا کیا جائے ، کالے قوانین کا خاتمہ کیا جائے ، کشمیر سے فوجی انخلاء عمل میں لایا جائے اور وادی کے طول و عرض میں قائم بنکروں اور واچ ٹاوروں کو ہٹایا جائے۔ میرواعظ نے اعلان کیا کہ جمعتہ الوداع کو پورے جموں وکشمیر میں حسب سا بق اس سال بھی یوم قدس اور یوم کشمیر کے طور پر منایا جائیگااور اس سلسلے میں متحدہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے باضابطہ پروگرام عوام کے سامنے رکھا جائیگا۔

