وادی ،خطہ لداخ میں شبانہ درجہ حرارت میں تنزلی
شدت کی سردی اور کھلی دھوپ کا کھیل
سرینگر:١٤،جنوری ؍کے این این ؍ چلہ کلان کی40روز مدت جاری رہنے کے بیچ کشمیر وادی اور خطہ لداخ میں شبانہ سردی میں اضافہ ہوا جبکہ کم سے کم درجہ حرارت میں یکا یک تنزلی ریکارڈ کی گئی ۔سرد ترین رات کے بعد سرینگر سمیت وادی بھر میں سوموار کو بھی کھلی دھوپ نکل آئی ۔ادھر محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ 5روز تک موسمی صورتحال ممکنہ طور پر خشک رہنے کا امکان ہے ،تاہم بعد ازاں بارش اور برفباری کا بھی قومی امکان ہے ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق اتوار کی طرح سوموار کو بھی اہلیان کشمیر نے کھلی دھوپ کا نظارہ کیا ۔کشمیر میں کئی روز سے جاری سخت سردی اور برفباری کے بعد سوموار کے روز صبح سے ہی دھوپ کھلی رہنے سے لوگوں کوموسم ِ سرما کے شہنشاہ’ چلہ کلان‘ کی قہر سامانیوں سے قدرے راحت نصیب ہوئی۔تاہم شبانہ سردیوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ اس میں مزید اضافہ ہی دیکھنے کو ملا کیو نکہ شبانہ درجہ حرارت میں یکا یک گرائوٹ درج کی گئی ۔محکمہ موسمیات کے ایک ترجمان نے شبانہ درجہ حرارت کے حوالے سے جو تفصیلات فراہم کیں ،اُنکے مطابق ریاست جموں وکشمیرمیں قصبہ ’دراس‘ سرد ترین علاقہ ہونے کے مقام پر سر فہرست رہا جہاں کم سے کم درجہ حرارت منفی28.2 ڈگری سیلشیس ریکارڑ کیا گیا جو رواں موسم کی اب تک کی سرد ترین رات ہے۔ گرمائی دارلحکومت سرینگر میں کم سے کم درجہ حرارت منفی6.4 ڈگری سیلشیس درج کیا گیاجبکہ وادی کے مشہور ومعروف سیاحتی وصحت افزاء مقامات پہلگام اور گلمرگ میں کم سے کم رجہ حرارت بالترتیب منفی14.6 ڈگری اور منفی12.0 ڈگری سیلشیس درج کیا گیا۔ محکمہ موسمیات کے ترجمان کے مطابق خطہ لداخ کے قصبہ لیہہ میں کم سے کم درجہ حرارت منفی16.2 ڈگری اور قصبہ کرگل میں کم سے کم درجہ حرارت منفی 18.0 ڈگری سیلشیس درج کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ سرمائی دارلحکومت جموں میں کم سے کم درجہ حرارت3.9 ڈگری سیلشیس یکارڑ کیا گیا۔ کٹرا میں کم سے کم درجہ حرارت4.4 ڈگری، بٹوت میں کم سے کم درجہ حرارت منفی1.3 ڈگری ، بانہال میں منفی1.5 ڈگری اور بھدرواہ میں منفی2.2 ڈگری سیلشیس ریکارڑ کیا گیا۔اس دوران محکمہ موسمیات کے صوبائی ڈائریکٹر سونم لوٹس کا کہنا ہے کہ ریاست میں اگلے 4 سے5 دنوں تک موسم خشک رہنے کاا مکان ہے۔ تاہم بعد ازاں بارش وبرفباری کا اگلا مرحلہ شروع ہوسکتا ہے۔ان کا کہناتھا کہ جموں کشمیر میں اگلے ہفتے سے مغربی ہوئیں داخل ہوسکتی ہیں جس کے باعث وادی میں دوبارہ برفباری کا مکان ہے۔وادی کشمیر میں اس وقت سردیوں کے بادشاہ چلہ کلان کی40روزہ مدت جاری ہے ،جو 31جنوری کو ختم ہوگی جبکہ اسکے بعد چلہ خرد کے 20اور چلہ بچہ کے10دن بھی ہیں ۔ان ایام کے دوران سردی کی شدت برقرار رہنے کے ساتھ ساتھ برفباری اور بارش کے زیادہ تر امکانات رہتے ہیں ۔اہلیان وادی سردیوں کے ایام سے نمٹنے کیلئے روایتی تدابیر اپناتے ہیں ،جن میں کانگڑی اور پھرن کا استعمال کثریت کے ساتھ کیا جاتا ہے جبکہ عصر حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق جدید گرمی کے آلات بھی استعمال ہوتا ہے ،تاہم ان آلات کا صحیح استعمال نہ ہونے کے سبب بعض اوقات جان لیوا واقعات بھی پیش آتے ہیں ۔اس موسم سرما کے دوران ایسے آلات کے غلط استعمال اور انسانی غفلت شعاری کے باعث ایک کنبے کے پانچ افراد ِ خانہ سمیت کم سے کم ایک درجن افراد دم گھٹنے سے لقمہ اجل بن گئے ۔

