سانبورہ پلوامہ میں شبانہ خونین معرکہ آرائی،جیش کمانڈر نور ترالی جاں بحق

پلوامہ:’سانبورہ پلوامہ میں شبانہ خونین معرکہ آرائی ‘کے دوران عسکری تنظیم جیش محمد کا انتہائی مطلوب جنگجوکمانڈر نور محمد تانترے عرف نور ترالی جاں بحق اور طرفین کے مابین گولی باری کے تبادلے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا جبکہ جھڑپ کے دوران ایک رہائشی مکان زمین بوس ہوا۔ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے اِس جنگجو مخالف کارروائی کو بڑی کامیابی سے تعبیر کیا ۔ادھر جیش کمانڈر کی ہلاکت پر پلوامہ اور ترال میں ہڑتال رہی جبکہ جاں بحق جنگجوکی آبائی قصبہ ترال میں کئی مرتبہ نماز ِجنازہ ادا کرنے کے بعد ہزاروں لوگوں کی موجودگی میں سپرد لحد کیا گیا ۔اس دوران جنوبی ضلع پلوامہ میں موبائیل انٹر نیٹ خد مات معطل کردی گئیں جبکہ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر ریل سروس معطل رکھی گئی ۔

سانبورہ پلوامہ میں پیر کی شب جنگجو ﺅں اور فوج وفورسز کے درمیان ایک خونین معرکہ آرائی میں اعلیٰ مقامی جیش کمانڈر نو رترالی جاں بحق ہوا۔جھڑپ کے حوالے سے ملی تفصیلات کے مطابق 50آر آر ،ایس اوجی اور سی آر پی ایف اہلکاروں نے ایک خفیہ اطلاع ملنے کے بعد سانبورہ پلوامہ کا محاصرہ کیا ۔ذرائع نے بتایا کہ فوج وفورسز کو ایک اطلاع ملی تھی کہ علاقے میں دو سے تین جنگجوﺅں کا ایک گروہ موجود ہے اور اسی اطلاع کی بنیاد پر پیر کی شب فوج وفورسز نے اس علاقے کا محاصرہ کرکے جنگجو مخالف آپریشن شروع کیا ۔

ذرائع نے بتایا کہ فوج وفورسز کی ایک پارٹی جب ایک مخصوص مقام پر طرف پیش قدمی کررہی تھی ،جس دوران یہاں چھپے بیٹھے جنگجوﺅں نے مذکورہ فورسز پارٹی پر فائرنگ کی ۔ذرائع نے بتایا کہ ابتدائی گولیوں کے تبادلے کے ساتھ ہی طرفین کے مابین شدید جھڑپ کا سلسلہ شروع ہوا ،جو وقفے وقفے سے رات بھر جاری رہی ۔ذرائع نے بتایا کہ فوج وفورسز نے علاقے کو رات بھر محاصرے میں رکھا اور منگل کی علی الصبح جنگجو کے خلاف آپریشن میں تیزی لائی گئی ،جس دوران شدید گولیوں کے تبادلے میںعسکری تنظیم جیش محمد کا انتہائی مطلوب جنگجوکمانڈر نور محمد تانترے عرف نور ترالی جاں بحق اور ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نور ترالی جیش محمد عسکری تنظیم کے ڈو یژنل کمانڈر تھے ۔ جھڑپ کے دوران ایک رہائشی مکان زمین بوس ہوا

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ 47سالہ نور ترالی کا قد صرف3فٹ تھا اور یہ سیکورٹی ایجنسیوں کےلئے دردِ سر بنا ہوا تھا ۔نور ترالی جنوبی کشمیر میں کئی برسوں سے سرگرم تھے ۔معلوم ہوا ہے کہ سنہ2003میں نور محمد تانترے کو دہلی سے گرفتار کیا گیا تھا اور سنہ 2011میں ”پو ٹا“ کی عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی دی ،تاہم نور ترالی کو کچھ برس قبل ”پیرول “سینٹرل جیل سرینگر سے رہا گیا تھا اور رہائی کے دوران ہی وہ جنگجوﺅں کے صف میں شامل ہوئے ۔

ریاستی پولیس کے سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے اِس جنگجو مخالف کارروائی کو بڑی کامیابی سے تعبیر کیا ۔سماجی رابط ویب سائٹ ٹویٹر پر تحریر کرتے ہوئے ایس پی وید نے جھڑپ اور مقامی جیش کمانڈر نور ترالی کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کی ۔انہوں نے جائے جھڑپ سے مہلوک جنگجو کی نعش ہتھیار سمیت برآمد کی گئی ۔ان کا کہناتھا جی مہلوک جنگجو کمانڈر اپنے ساتھیوں کے ساتھ سرینگر ۔جموں شاہراہ پر فورسز پر حملہ کرنے کا ایک بڑا منصوبہ رکھتے تھے ،تاہم بروقت جنگجو مخالف کارروائی سے اِسے ناکام بنادیا گیا ۔

جھڑپ اور پولیس بیان
پولیس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سرینگر میںسرحدی حفاظتی فورس( بی ایس ایف) ہیڈ کواٹر پر حملے کا ماسٹر مائنڈ تھا ۔ پولیس ترجمان نے اپنے بیان میں کہا’جیش محمد کمانڈر نور محمد تانترے عر ف نور ترالی امسال سرینگر ائر پورٹ کے قریب بی ایس ایف ہیڈ کواٹر پر ہوئے فدائین حملے ماسٹر مائنڈتھا‘۔

ترجمان نے بتایا جیش کمانڈر کے حوالے سے اونتی پولیس ،آرمی اور سی آر پی ایف کو بڑی کامیابی ملی جب اسکے حوالے سے ایک خفیہ اطلاع ملی ۔انہوں نے انتہائی مطلوب ترین جیش جنگجو کمانڈر نور ترالی کو سانبورہ پلوامہ میں ایک معرکہ آرائی کے دوران جاں بحق کردیا گیا اور یہ فورسز کےلئے ایک بڑی کامیابی ہے۔

پولیس ترجمان نے سنہ2003میں ایک کیس میں ملوث پایا کر نورترالی کو دہلی کی ایک عدالت نے عمر قید کی سزا سنائی تھی اور سینٹر ل جیل سرینگر میں مقید تھے اور سنہ2015میں اِسے ’پیرول‘ پر رہا کردیا گیا تھا ۔

پولیس ترجمان نے بتایا کہ ترال میں نور ترالی جیش محمد کےلئے بالائی زمین ورکر کی حیثیت سے کام کرتے تھے ۔پولیس ترجمان نے بتایا کہ جولائی2017میں آری پل انکوانٹر میں جیش محمد کے تین جنگجو ازجان ہوئے اور اسی روز نور ترال انڈر گراﺅنڈ ہوئے اور اِس نے باضابط طور پر عسکری تنظیم جیش محمد میں شامل ہوئے ۔پولیس ترجمان کے مطابق وادی کشمیر میں کئی جنگجویانہ حملوں میں نور ترالی ملوث تھا ۔

ہڑتال،انٹر نیٹ اور ریل سروس منقطع

جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ کے بیشتر علاقوں میں جاں بحق جنگجو کمانڈر کی یاد میں منگل کو تعزیتی ہڑتال رہی ۔معلوم ہوا ہے کہ پلوامہ ،اونتی پورہ ،کاکا پورہ ،پانپور،ترال اور دیگر کئی علاقوں دکانیں اور کاروباری ادارے بند رہے جبکہ سڑکوں سے ٹریفک غائب رہا ۔اس دوران سرینگر اور بانہال کے درمیان ریل سروس کو سیکورٹی وجوہات کی بنا پر معطل رکھا گیا ۔ادھر امن وقانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کےلئے جنوبی ضلع پلوامہ میں موبائیل انٹر نیٹ خد مات بھی منقطع رکھی گئیں ۔

دریں اثنا ءمہلوک جنگجو کمانڈر کی میت آبائی قصبہ ترال پہنچائی گئی ،جہاں کئی مرتبہ نماز جنازہ ادا کی گئی ،جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی ۔بعد ازاں جاں بحق جنگجو کی میت کو جذباتی مناظر میں سپرد لحد کیا گیا ۔

ا

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے