جموں کشمیر میں ایسی کاروائیاں بند نہیں کی گئی تو منہ توڑ جواب دیا جائے گا
سرینگر/31مئی /سی این آئی یکطرفہ جنگ بندی اعلان کے بیچ وادی کشمیر میں پولیس اور فورسز پر حملوں کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے مرکزی وزیر دفاع نرملا سیتا رامن نے واضح کیا کہ فورسز یا پولیس اہلکاروں پر حملوں کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا اور بھر پور جوابی کارروائی کی جائیگی ۔انہوں نے کہا ہے کہ یہ ایک مذموم حرکت ہیں اور ایسی کارروائی سے کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے ۔ انہوں نے ایک مرتبہ پھر پاکستان پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ جنگجویانہ حملوں کے پیچھے پاکستان کی بشت پناہی حاصل ہے ۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق نئی دہلی میں ایک تقریب کے دوران ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کی طرف سے وادی کشمیر میں فورسز اہلکاروں پر جنگجویانہ حملوں کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مرکزی وزیر دفاع نرملا ستیا رامن نے یک طرفہ جنگ بندی معاہدے کے باوجود پولیس و فورسز اہلکاروں پرحملوں کی زبردست الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر میں آئے روز سیکورٹی فورسز پر حملے ناقابل برداشت ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر میں فورسز اہلکاروں پر حملے کے پیچھے براہ راست پاکستان کا ہاتھ ہے اور ایسے حملوں کو قطع برداشت نہیں کیا جائے گا ۔سیتا رامن کا مزید کہنا تھا کہ بھارت کی طرف سے دوسری کا ہاتھ بڑھانے کے باوجود بھی پاکستان اپنی کرتوتوں سے باز نہیں آتا ہے ۔انہوں نے پاکستان پر زور دیا کہ وہ جنگجوؤں کی پشت پناہی کرنا چھوڑ دئے نہیں تو بھارت بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے اہل ہے ۔ مرکزی وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ سیکورٹی فورسز فوج کے جوان، نیم فوجی دستوں کے جوان کشمیر میں کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے اہل ہے اور جنگجوؤں کے حملوں کا منہ توڑ جواب دے رہے ہیں جس سے وہ خوش ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ملک کو سیکورٹی فورسز اور اپنے جوانوں پر فخر ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان بھارت کا پڑوسی ہے اور ہم پاکستان کے ساتھ بہترین تعلقات کے خواہاں ہیں۔ پاکستان ہمارا پڑوسی ملک ہے ہم نہ صرف پاکستان کے ساتھ، بلکہ اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتے ہیں۔ ہم امن بھی چاہتے ہیں لیکن اگر ہندوستان پر کوئی دہشت گرد حملہ ہوتا ہے تو ہم اس کا منہ توڑ جواب دیں گے۔

