سرینگر: 26جنوری کے موقعہ پر حسب سابقہ جمعہ کو دوپہر تک وادی کشمیر کے طول وارض میں موبائیل فون اور انٹر نیٹ سروس منقطع کردی گئی جبکہ تقریبات کے لئے متعین جگہوں پربھی موبائیل فون جامر نصب کئے گئے تھے۔کشمیر میڈیا نیٹ ورک کے مطابق اگر چہ 26جنوری کے پیش نظر وادی میں موبائیل اور انٹر نیٹ سہولیات معطل کرنا اب ایک معمول بن گیا ہے، تاہم اس بار حکام نے ایک روز قبل یعنی25جنوری جمعرات کی شام سے ہی موبائیل انٹر نیٹ خدمات معطل کیں۔جمعہ کی صبح شہر سرینگر میں موبائیل فون بیکار کئے گئے اور لوگوں کا آپسی رابطہ منقطع ہوا جس کے نتیجے میں تمام مواصلاتی کمپنیوں کے موبائیل فون ٹھپ ہوگئے اور موبائیل سگنل مکمل طور پر غائب ہوگئی۔وسطی ،شمالی اور جنوبی کشمیر کے دیگرتمام اضلاع میں بھی تمام مواصلاتی کمپنیوں نے موبائیل سروس مکمل طور بند رکھی ۔اس صورتحال کے نتیجے میں مختلف مواصلاتی کمپنیوں کی طرف سے فراہم کی جانی والی انٹرنیٹ سروس بھی ٹھپ ہوکر رہ گئی۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ ایسا مرکزی وزارت داخلہ کی خصوصی ہدایت پر کیا گیا تھا تاکہ جنگجودھماکے کرنے میں موبائیل فون کا استعمال نہ کرسکیں ۔ذرائع نے کے ایم این کو بتایا کہ ریاست میں موبائیل سروس فراہم کرنے والی تمام کمپنیوں کو ہدایت ملی تھی کہ وہ26جنوری کے روز دوپہر تک اپنی سروس بند کریں جس پر عمل پیرا ہوتے ہوئے بی ایس این ایل،ائر ٹیل،ائر سیل اور جیو نامی کمپنیوں نے جمعرات کی شام انٹرنیٹ جبکہ جمعہ کی صبح موبائیل سروس مکمل معطل کر کے رکھی۔اس دوران براڈ بینڈ اور فکسڈ لائن انٹرنیٹ کی رفتار انتہائی سست رہی۔ تاہم شہرسرینگر کی حدود میں بعد دوپہر دو بجے جبکہ باقی ماندہ وادی میںسہ پہر کے بعدموبائیل اورانٹرنیٹ سروس بحال کی گئی۔ کے ایم این ذرائع کے مطابق یہ اقدام اہم شخصیات کی سیکورٹی سے متعلق خدشات کے پیش نظر اٹھایا گیا جس کے نتیجے میںان تمام جگہوں پربھی موبائیل فون جامر نصب کئے گئے تھے جہاں پر 26جنوری کی تقریبات منعقد کی گئیں۔ان جگہوں کے اندر اور ان کے گردنواح میں موبائیل سگنل کو مکمل طورپر جام کردیاگیاتھا۔قابل ذکر ہے کہ جب سے ریاست میں موبائیل فون سروس خدمات شروع کی گئی ،تب سے کچھ ایک موقعوں کوچھوڑ کر26جنوری اور15اگست کے موقعوں پر موبائیل سروس بند رکھی جاتی ہے۔

