سرینگر :وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بیت المقدس پر امریکہ کے خلاف اقوام متحدہ میںبھارت کی جانب سے ووٹ دےنے کے فیصلے کی سرا ہنا کی ۔انہوں نے کہا ’یہ دیکھ کر بڑا فخر ہوا کہ بھارت نے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے کے فیصلے کے خلاف اقوام متحدہ میں ووٹ دیا‘۔
یروشلم کے معاملے پربھارت نے اقوام متحدہ میں امریکا کے خلاف اپنا ووٹ دیا ،جس پر ریاست کی خاتون وزیر اعلیٰ نے اپنا رد ِ عمل ظاہر کیا ۔محبوبہ مفتی نے سماجی رابط ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹوئیٹ کرتے ہوئے لکھا ہے ’یہ دیکھ کر بڑا فخر ہوا کہ بھارت نے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت بنانے کے فیصلے کے خلاف اقوام متحدہ میں ووٹ دیا۔‘وزیر اعلیٰ نے مزید لکھا :’اس ووٹ نے فلسطین کی حمایت سے متعلق ہمارے موقف کو مزید مضبوط کیا۔‘
یاد رہے کہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کے امریکی فیصلے کے خلاف اقوام متحدہ میں قرارداد کثرت رائے سے منظور کرلی گئی۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں قرارداد کے حق میں 128 جبکہ مخالفت میں 9 ووٹ ڈالے گئے۔
193 ملکی اسمبلی کے 35 رکن ممالک ووٹنگ کے عمل سے غیر حاضر رہے۔قرارداد کی مخالفت میں ووٹ دینے والے ممالک میں گ±واٹیمالا، ہ±نڈراس، ٹوگو، مائیکرونیشیا، نورو، پالو، مارشل آئیلینڈز اور دیگر ممالک شامل ہیں۔
ووٹنگ سے غیر حاضر رہنے والے ممالک میں ارجنٹینا، آسٹریلیا، کینیڈا، کروشیا، جمہوریہ چیک، ہنگری، لیٹویا، میکسیکو، فلپائن، رومانیہ اور رَوانڈا سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔یوکرین، جس نے سلامتی کونسل میں قرارداد کی حمایت کی تھی، جنرل اسمبلی میں ووٹنگ کے دوران ان 21 ممالک میں شامل رہا جنہوں نے ووٹنگ کے عمل میں حصہ نہیں لیا۔
معاملے کو پیر کے روز سلامتی کونسل میں امریکا کی جانب سے ویٹو کیے جانے کے بعد جنرل اسمبلی میں بھیجا گیا تھا، جبکہ کونسل کے دیگر 14 رکن ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا تھا۔جنرل اسمبلی میں قرارداد منظور ہونے کے بعد امریکی سفیر نکی ہیلے کا کہنا تھا کہ ’امریکا یہ دن یاد رکھے گا۔‘
ادھرکچھ صارفین نے وزیر اعلیٰ کی جانب سے کئے گئے اس ٹوئیٹ پر اپنا ردِ عمل بھی ظاہر کیا ۔

