سرینگر:مسئلہ کشمیر کو ہند پاک کے درمیان مسائل کی جڑ قرار دےتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ وہ اس دیرینہ تنازعہ کا حل افہام و تفہیم سے نکالیں ۔ انہوں نے کہا کہ سرحدی کشیدگی سے نہ صرف دونوں ممالک کے فوجی مارے جارہے ہیں بلکہ عام لوگ بھی گن گرج کا نشانہ بنتے ہیں۔
ایک تحریری بیان میں سرحدوں پر ہند و پاک فوجوں کے درمیان گولہ باری اور آئے روز قیمتی جانوں کی تلافی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ہندوستان اور پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت سے پُرزور اپیل کی کہ وہ سرحدوں پر امن کی فضا قائم کرنے کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھائیں۔
انہوں نے کہا کہ سرحدی کشیدگی سے نہ صرف دونوں ممالک کے فوجی مارے جارہے ہیں بلکہ عام لوگ بھی گن گرج کا نشانہ بنتے ہیں۔ اس تشویشناک صورتحال سے سرحدکے قریب رہائش پذیر لوگوں کو ریکارڈ توڑ تکالیف اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
گولہ باری سے سرحدی علاقوں میں کروڑوں روپے مالیت سے ہاتھ دھونے پڑتے۔ گذشتہ برسوں کے دوران گولہ باری میں جہاں لاتعداد انسانی زندگیاں انجام کو پہنچائی وہیں ان گنت مکانات اور دیگر املاک کو نقصان پہنچا ۔دونوں پڑوسیوں کے درمیاں کڑواہٹ کے نتیجے میں سرحدوں پر گن گرج کا سما ہے اور آر پار سرحدی آبادی کی زندگی اجیرن بنا دی گئی ہے۔
سرحدوں کے نزدیک رہنے والے لوگوں کو ہر وقت اپنے سروں پر موت کا سایہ منڈلاتا نظر آرہاہے اور ایسے میں اُن کی زندگیاں بھی عذاب بن کر رہ گئیں ہیں۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ دونوں ممالک کو تمام مسائل کی بنیادی جڑ مسئلہ کشمیر کی حل کی ضرورت کو سمجھنا چاہئے اور اس کے کیلئے ٹھوس اقدامات اُٹھانے چائیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مسئلہ کشمیر کا حل سیاسی بنیادوں پر نہیں نکالا جائے گا تب تک سرحدوں کو مکمل طور پر خاموش نہیں کیا جاسکتا۔
مسئلہ کشمیر کے لٹکے رہنے سے جنگ بندی اور دیگر معاہدے صرف کاغذی گھوڑے ثابت ہورہے ہیں۔ انہوں نے دونوں ممالک کے عوام، سول سوسائٹی اور ذرائع ابلاغ سے ابھی اپیل کی کہ اپنی اپنی حکومتوں اور سیاسی قیادت کو مذاکرات کی میز پر آنے کیلئے دباﺅ ڈالیں کیونکہ بات چیت کے سوا اور کوئی بھی طریقہ کارگر ثابت نہیں ہوسکتا۔
ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ دونوں پڑوسی ممالک کے باشعور اور باغیور عوام اور رہنما اس بات سے بخوبی واقف ہیں کہ امن میں ہی سب کی بھلائی ہے اور دشمنی، تشدد اور تلخیاں و دوریاں کسی کے بھی فائدے میں نہیں بلکہ یہ صرف اور صرف نقصان کا سامان ہے۔

