سری نگر: طویل عرصہ بعدحریت(ع)کی ایگزیکٹوکونسل کاجلاس منعقدا،جس میں ماردھاڑ ، گرفتاریوںاورہراسانیوں کی مذمت کرتے ہوئے خبردارکیاگیاکہ ہندوپاک کے درمیان ٹکراﺅ کی صورتحال تشویشناک ہے۔حریت(ع)نے مسئلہ کشمیرسے متعلق اپنے موقف کااعادہ کرتے ہوئے تنازعہ کشمیر کے حل کےلئے بامعنی مذاکراتی عمل کی ضرورت پرزوردیا۔کے این ایس کوموصولہ بیان کے مطابق حریت کانفرنس(ع) کی ایگزکیٹو کونسل کا ایک غیر معمولی اجلاس چیئرمین میرواعظ محمد عمر فاروق کی صدارت میں حریت صدر دفترواقع راجباغ پر منعقد ہوا۔ اجلاس میں حریت ایگزکیٹو اراکین پروفیسر عبد الغنی بٹ، بلال غنی لون، محمد مصدق عادل اور مختار احمد وازہ نے شرکت کی ۔ بیان کے مطابق متذکرہ اجلاس جو کہ میرواعظ محمد عمر فاروق کی ریاستی انتظامیہ کے ہاتھوںبار بار کی خانہ نظر بندیوں اور ان کی جملہ سرگرمیوں پر عائد متواتر پابندیوں کے سبب طویل عرصہ کے بعد منعقد ہوا میں موجودہ سیاسی ، تحریکی اور تنظیمی صورتحال کے مختلف پہلوﺅں پر تفصیل کے ساتھ غور و خوض کیا گیا۔ اجلاس میںحریت(ع) چیئرمین کےخلاف حکمرانوں کی معاندانہ روش اور ان کو بار بار اپنی رہائش گاہ میں نظر بند کرکے ان کی جملہ سیاسی، دینی اور منصبی ذمہ داریوں پر عائدکی جا رہی پابندیوں کی شدید مذمت کی گئی۔حریت کانفرنس(ع) کی ایگزکیٹو کونسل کے اجلاس میں ریاستی حکمرانوں کی جانب سے نہتے کشمیری عوام کےخلاف روا رکھی جارہی ظلم و زیادتیوں ، مار دھاڑ ، پکڑ دھکڑ ، گرفتاریوں اور ہراسانیوں کی آمرانہ پالسیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ظلم وجبر کے ہتھکنڈوں سے نہ تو ماضی میں حریت قیادت اور کشمیری حریت پسند عوام کو مرعوب کیا جاسکا ہے اور نہ آئندہ اس طرح کی غیر جمہوری اور غیر انسانی پالسیوں سے حریت پسند قیادت اور عوام کو خوف زدہ کیا جاسکتا ہے۔ اجلاس میں حریت کانفرنس(ع) کو ہر سطح پر مضبوط ، فعال اور متحرک بنانے کےلئے دستور کے مطابق ایک نہایت سنجیدہ عمل کا آغازکرنے پر غور وخوض ہوا اورکہا گیاکہ کشمیری عوام کی امنگوں اور خواہشات کی ترجمان اس اجتماعی نظم کی ہر صورت میں حفاظت کی جائیگی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ حریت کانفرنس کا مسئلہ کشمیر کے حل کے حوالے سے موقف نہ صرف تاریخی اعتبار سے حق و انصاف پر مبنی ہے بلکہ اس پورے خطے میں موجود سیاسی صورتحال کے تقاضوں کے عین مطابق بھی ہے۔بیان کے مطابق اجلاس میں کہا گیا کہ مار ڈھاڑ، ظلم و جبر، قدغنوں ، نظر بندیوں ، گرفتاریوں، بندشوں اور ہراسانیوں کو بنیاد بنا کر اس اجتماعی نظم کو متاثر نہیں کیا جاسکتا اور نہ حریت پسند قیادت کو اپنے دیرینہ حق و انصاف سے عبارت موقف سے دستبردار کیا جاسکتا ہے۔اجلاس میں جنوبی ایشائی خطے میں بڑی مملکتوں کے درمیان ٹکراﺅ کی صورتحال کو تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ انسانی قدروں کی بقاءاور جنوبی ایشیا کے ساتھ ساتھ پوری دنیا میں اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے یہ مملکتیں مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کے حل کےلئے ایک بامعنی مذاکراتی عمل کا آغاز کرکے اس خطے کو درپیش غیر یقینی سیاسی صورتحال سے چھٹکارا دلائیں۔

