واقعہ کے خلاف طلبہ کا احتجاج ،اُستاد معطل
سری نگر:یکم،جون:/ محکمہ تعلیم نے گاندر بل کے سرکاری اسکول میں تعینات اُستاد کو طالبہ پر تشدد کرنے کی پاداش میں تاحکم ثانی معطل کرنے کے احکامات صادر کئے ۔واقعہ کے خلاف طلباء وطالبات نے احتجاجی مظاہرے بھی کئے ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق وسطی ضلع گاندر بل میں محکمہ تعلیم نے ایک اُستاد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی ۔بتایا جاتا ہے کہ ما مر کنگن میں واقع ایک سرکاری اسکول میں تعینات نے ایک اُستاد نے سبق یاد نہ ہونے پر کمسن طالبہ کو اِ س قدر شدید مار پیٹ کی اُس بائیں بازو کی ہڈی ٹوٹ گئی ۔معلوم ہوا ہے کہ اس واقعہ کے خلاف طلباء وطالبات نے احتجاجی مظاہرے کئے اور مانگ کی کہ اُستاد کے خلاف کارروائی کی جائے ۔چنانچکہ چیف ایجو کیشن افسر گاندر بل شیخ غیاث الدین نے اطلاع ملتے ہی اسکول کادورہ کیا اور جائزہ لیا ۔انہوں نے متاثرہ بچی سے بھی ملاقات کی ۔ان کا کہناتھا کہ اُستاد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی اور مذکورہ اُستاد کو معطل کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ متاثر لڑکی سے ملنے کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ بچی کو شدید جسمانی تشدد کا شکار بنایا گیا ۔ان کا کہناتھا کہ اُستاد کو معطل کرنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں ۔ یاد رہے کہ یہ کارروائی 9سالہ طالبہ کی مار پیٹ کرنے پر عمل میں لائی گئی ۔اس سے پہلے احتجاجی مظاہرین نے سرینگر ۔لہیہ شاہرہ پر دھر نا دیا اور ٹریفک کی نقل وحرکت مسدود کرکے رکھ دی ۔مظاہرین کا کہنا ہے کہ جب تک اُس کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی اسکول میں تدریسی عمل بحال نہیں ہونے دیا جائیگا ۔یاد رہے کہ جمعرات کو بارہمولہ سے ایک مولوی کو کمسن شاگرد کو اُلٹا لٹکانے پر گرفتار کیا گیا تھا ۔

