جموں :’کٹھوعہ جموں میں آٹھ سالہ معصوم بچی کو مبینہ طور اغوا کرنے کے بعد بہیمانہ قتل کردیا گیا ۔ ایک ہفتہ بعد معصوم آسیفہ بانو کی پُراسرار حالت میں نعش ہیرا نگر کے رسانہ گاﺅں میں جھاڑیوں سے برآمد کی گئی۔معصوم مقتولہ کے لواحقین اور رشتہ داروں نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی آزادانہ تحقیقات اور قصور واروں کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔ادھرانسپکٹر جنرل آف پولیس جموں زون ایس ڈی جموال نے کہا ہے کہ واقعہ کی نسبت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔
ایک ہفتہ قبل کٹھوعہ جموں میں بکر وال طبقہ سے تعلق رکھنے والی آٹھ سالہ معصوم بچی آصفہ بانو کو نامعلوم افراد نے اغوا کیا اور ایک ہفتے بعد معصوم بچی کی نعش پُراسرار حالت میں ہیرا نگر کے رسانہ گاﺅں میں جھاڑیوں سے برآمد کی گئی ۔
معصوم مقتول بچی کے لواحقین اور رشتہ داروں نے احتجاجی مظاہرے کئے ۔انہوں نے سر ِ راہ مقتولہ کی نعش رکھ کر صدائے احتجاج بلند کی اور مطالبہ کیا کہ واقعے کی آزادانہ تحقیقات و قصور واروں کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔ادھر کٹھوعہ میں معصوم بچی کو اغوا کرکے بہیمانہ قتل کرنے کے واقعے پر زبردست غم وغصہ پایا جارہا ہے جبکہ اس واقعے نے ہر دل کو غمزدہ کردیا ۔
دل دہلانے والے اغوا اور بہیمانہ قتل کے سلسلے میں ریاستی پولیس کا کہنا ہے کہ کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ۔انسپکٹر جنرل آف پولیس جموں زون ایس ڈی جموال نے کہا ہے کہ واقعہ کی نسبت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ بچی کا ضلع اسپتال کٹھوعہ میں پوسٹ مارٹم کرایا گیا ،تاکہ حقائق کا پتہ لگایا جاسکے ۔
معلوم ہوا ہے کہ معصوم مقتولہ کے چہرے پر سنگین زخموں کے واضح نشان ہے ۔صوبائی پولیس سربراہ جموں کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں ایک خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی گئی ہے ۔

