زخمی حالت میں سرینگر منتقل،حملہ اسلحہ چھینے کی ناکام کوشش تھی :پولیس
کولگام:۳۱،مئی:/ جنوبی کشمیر میں جنگجویانہ سرگرمیوں میں آئی تیزی کے بیچ کولگام میں منی سیکریٹریٹ کے باہر نامعلوم افراد نے سی آر پی ایف افسر پر کلہاڑی سے حملہ کرکے شدید زخمی کردیا ۔پولیس کا کہنا ہے کہ یہ اسلحہ چھینے کی ناکام کوشش کی تھی جبکہ فرار ہونے کے دوران حملہ آؤر نے اپنے پیچھے ایک بستہ چھوڑا ۔ حملے کے فوراً بعد علاقے کا محاصرہ کرکے حملہ آؤروں کی تلاش شروع کردی گئی ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق جنوبی ضلع کولگام کے منی سیکریٹریٹ کے اندر وباہر جمعرات کو اُس وقت کشیدگی اور افراتفری پھیل گئی ،جب یہاں نامعلوم افراد نے سی آر پی ایف اہلکار پر کلہاڑی سے حملہ کرکے لہو لہاں کردیا ۔نمائندے محمد اشرف کے مطابق منی سیکریٹریٹ کولگام یعنی ضلع ترقیاتی کمشنر کے دفتر کے مرکزی گیٹ کے نزدیک قائم کی گئی سی آر پی ایف چوکی کے اندر حملہ آؤروں نے حملہ کیا ۔نمائندے نے عینی شاہدین کا حوالہ دیتے ہوئے حملہ آؤروں کی تعداد ایک سے دو تھی ،جونو جوان تھے ۔ذرائع کے مطابق حملہ آؤر چوکی کے اندر داخل ہوئے ،جہاں انہوں نے کلہاڑی سے 18بٹالین سی آر پی ایف سے وابستہ اہلکار پر زور دار حملہ کیا جسکے نتیجے میں مذکورہ اہلکار شدید زخمی ہوا ۔معلوم ہوا ہے کہ حملہ آؤروں نے مذکورہ اہلکار کے سر پر حملہ کیا ۔زخمی اہلکار کی شناخت اسسٹنٹ سب انسپکٹر اشوک کمار کے بطور ہوا جسے ضلع اسپتال کولگام میں داخل کیا گیا ،جہاں سے اُسے مزید علاج ومعالجہ کی خاطر سرینگر منتقل کیا گیا ۔حملہ آؤر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے ،تاہم وہ ہتھیار چھینے میں کامیاب نہیں رہے ۔حملے کے فوراً بعد پولیس وفورسز اہلکاروں نے پورے علاقے کو گھیرے میں لیا اور حملہ آؤروں کی تلاش بڑے پیمانے پر شروع کردی جبکہ ایس ایس پی کولگام ہر میت سنگھ اور سی آر پی ایف کے اعلیٰ حکام نے جائے واردات پر جاکر صورتحال کا جائزہ لیا ۔اس موقع پر نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ایس ایس پی کولگام نے کہا کہ سی آر پی ایف اہلکار پر کلہاڑی سے حملہ کرنے کا مقصد ہتھیار چھینا تھا ،تاہم وہ اس میں ناکام رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ مذکورہ اہلکار نے حملہ آؤر کے ساتھ زبردست مزاحمت کی جسکی وجہ سے وہ ہتھیار چھینے میں کامیاب نہیں ہوا ۔ادھر پولیس ذرائع نے بتایا کہ حملہ آؤ ر فرار ہونے کے دوران اپنے پیچھے ایک بیگ چھوڑا ،جس میں کچھ کپڑے تھے جبکہ حملہ آؤر نے حملے کے آلہ کلہاری بھی وہیں چھوڑ دی ۔ادھر جنوبی کشمیر میں جنگجوؤں کی جانب سے اسلحہ چھیننے کی پے در پے کوششوں میں گزشتہ چند ماہ سے خاطر خواہ اضافہ ہونے کے بعد فورسز اہلکاروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے تاہم پولیس نے واقعات کو روکنے کے لئے محکمے جس میں خاص کر سنتری اور گھارتوں پر تعینات اہلکاروں کو بڑے پیمانے پر متحرک کیا ۔جنوبی کشمیر کے مختلف علاقوں جن میں پلوامہ ،کولگام ،سری گفوارہ ،اننت ناگ اور سرینگر کے ڈلگیٹ وغیرہ علاقوں اسلحہ چھینے یا کوششوں کے الگ الگ واقعات میں گزشتہ دس روز کے دوران زبردست اضافے کی وجہ سے علاقے کے مختلف سرکاری و غیر سرکاسرکاری دفاتر،سیاسی لیڈران مذہبی مقامات یا اقلیتی فرقوں کی حفاظت پر مامور اہلکار زبردست ذہنی پریشانیوں میں مبتلا ہورہے ہیں۔پولیس حکام نے کئی اہلکاروں کے خلاف ضابطے کے تحت کارروائی بھی کی ہے اور دوران ڈیوٹی سنتریوں کے سمارٹ فون کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی ہے ۔

