اسلام آباد: جاسوسی کے الزام میں گرفتار کلبھوشن یادیو کی والدہ اور اہلیہ پاکستان پہنچ گئی ہیں اور ان کی دفتر خارجہ میں کلبھوشن سے ملاقات کرائی جائے گی۔
کلبھوشن کی والدہ آوانتی سودھی یادیو اور بیوی چیتنکاوی یادیو دبئی سے آنے والی امارات ائر لائن کی پرواز ’ای کے 612‘ کے ذریعے بینظیر ائرپورٹ پہنچیں جبکہ ان کے ہمراہ ایک بھارتی سفارتکار بھی پاکستان پہنچا ہے۔ پرواز کو صبح 10 بج کر 50 منٹ پر آنا تھا لیکن شدید دھند کی وجہ سے دبئی ائرپورٹ پر متعدد پروازیں تاخیر کا شکار ہوگئیں جس کے باعث کلبھوشن کی والدہ اور اہلیہ ساڑھے 11 بجے اسلام آباد پہنچی۔
خصوصی سیکیورٹی پلان کے تحت کلبھوشن کے اہل خانہ کو اسلام آباد میں دفتر خارجہ پہنچایا جارہا ہے جہاں ان کی ملاقات کلبھوشن سے ملاقات کرائی جائے گی۔ ملاقات کے دوران بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر جے پی سنگھ بھی ان کے ہمراہ ہوں گے۔ دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات کا دورانیہ 30 منٹ سے ایک گھنٹے تک محیط ہوسکتا ہے۔
وزیر خارجہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی دے دی ہے اور اگر بھارت ہماری جگہ ہوتا تو ہمیں یہ رعایت نہ دیتا۔ دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر فیصل نے کلبھوشن تک قونصلر رسائی کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملاقات میں بھارتی سفارت خانے کے افسر کی موجودگی کا مطالب قونصلر رسائی نہیں۔
دفتر خارجہ کے باہر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں جب کہ واک تھرو گیٹ بھی لگادئیے گئے ہیں۔ ملاقات کے بعد دونوں خواتین آج ہی عمان ائر لائن کی پرواز 346 سے مسقط روانہ ہوجائیں گی جہاں سے وہ ائر انڈیا کی پرواز 974 سے نئی دہلی جائیں گی۔
قبل ازیں کلبھوشن یادیو کی والدہ اور اہلیہ نے ویزے کے لیے پاکستانی ہائی کمیشن میں درخواست دی تھی جس پر پاکستان نےانسانی ہمدردی کی بنیاد اور اسلامی شعائر کی روشنی میں ان کی درخواست قبول کرکے ملاقات کی اجازت دے دی تھی۔
واضح رہے کہ مبینہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے جاسوس کلبھوشن یادیو کو مارچ 2016ءمیں بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔

