کشمیر میں سیکورٹی وجوہات کی بناءپر ریل خدمات معطل

سری نگر، وادی کشمیر میں سیکورٹی وجوہات کی بناءپر جموں خطہ کے بانہال اور شمالی کشمیر کے بارہمولہ کے درمیان چلنے والی ریل خدمات جمعہ کے روز معطل رکھی گئیں۔

خدمات کی معطلی کے باعث وادی میں ریل گاڑیوں کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑااور بیشتر مسافر ریلوے اسٹیشنوں سے مایوس ہوکر واپس چلتے بنے۔ ریلوے ذرائع نے بتایا کہ وادی میں رواں برس ریل خدمات کو 48 مرتبہ سیکورٹی اور دوسرے وجوہات کی بناءپر کلی یا جزوی طور پر معطل رکھا گیا۔

انہوں نے بتایا کہ ریل خدمات کو آج (جمعہ کے روز) علیحدگی پسندوں کی طرف سے جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ کے لال چوک میں دی گئی ’جلسہ عام‘ کی کال کے پیش نظر احتیاطی طور پر معطل کردیا گیا ہے۔ ریلوے کے ایک عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ’ہم نے سیکورٹی وجوہات کی بناءپر تمام ٹرینوں کی آمدورفت معطل کردی ہے‘۔

انہوں نے بتایا ’وسطی کشمیر کے بڈگام اور شمالی کشمیر کے بارہمولہ کے درمیان چلنے والی تمام ٹرینوں کو معطل کیا گیا ہے‘۔ مذکورہ عہدیدار نے بتایا ’اسی طرح بڈگام اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان براستہ جنوبی کشمیر تمام ٹرینیں منسوخ کی گئی ہیں‘۔

انہوں نے بتایا کہ ریل خدمات کی معطلی کا اقدام پولیس اور سول انتظامیہ کی جانب سے جاری ایڈوائزری پر عمل کے طور پر لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس و سول انتظامیہ کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد ریل خدمات کو بحال کردیا جائے گا۔ پولیس و سول انتظامیہ نے ریل خدمات کو ظاہری طور پر لوگوں کو اننت ناگ پہنچنے سے روکنے کے لئے معطل کرادیا ہے۔

وادی میںامسال ریل خدمات کو سیکورٹی وجوہات کی بناءپر 48مرتبہ معطل کیا گیا ۔ ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ماضی میں تشدد کے واقعات کے دوران وادی میںریلوے املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا ۔ وادی میں گذشتہ برس جولائی میں حزب المجاہدین کمانڈر برہان مظفر وانی کی ہلاکت کے بعد شدید احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ریل خدمات کو کم از کم چار مہینوں تک معطل رکھا گیا ۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے