نئی دہلی // کانگریس کےسینئرلیڈر اور سابق وزیر داخلہ پی چدمبرم نے حکومت کی کشمیرپالیسی کی سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے آج کہاکہ جموں کشمیر میں وزیر اعظم نریندر مودی کی ’سخت اور فوج رخی ‘ پالیسی ناکام ہوگئی ہے ۔
انھوں نے ٹوئیٹر پر جاری پیغام میں کہا کہ حکومت کا ’سخت اور فوج رخی ‘ نظریہ ریاست سے دہشت گردی ختم کرنے میں ناکام رہاہے ۔
کانگریس لیڈر نے لکھا’’یہ دعوی کیا گیا تھا کہ سخت ،فوج رخی نظریہ دہشت گردی اور دراندازی ختم کردیگا۔‘‘ اس دوران سابق مرکزی وزیر کپل سبل نے بھی کہا کہ جموں کشمیرمسئلہ پر وزیر اعظم نریندرمودی کی تبصرہ محض بیان بازی ہے ۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’اگر آپ ان میں سے ہیں جو یہ مانتے ہیں کہ حکومت کے سخت اور فوج رخی نظریہ کو ایک موقع دیاجاناچاہئے ، تو آپ کو اپنا نظریہ بدل لینا چاہئے ۔ ‘‘ انھوں نے کہا کہ دانشمندی جموں کشمیرمسئلہ کے سیاسی حل کے لئے سرگرمی سے کام کرنے میں ہے،جہاں 1989سے ہزاروں لوگوں کی جانیں جاچکی ہیں۔
مسٹر چدمبرم نے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر میں ہلاک ہوئے شہریوں اور جنگجؤوں کی تعداد 2014سے2017تک تقریبادوگنی ہوگئی ہے ۔ان تین برسوں میں یہ تعداد28سے 57اور 110سے 218ہوگئی ہے ۔اس عرصہ میں ہلاک ہونےوالے فوجی جوانوں کی تعداد بڑھ کر 47سے 83رہی ہے ۔
انھوں نے کہا کہ مسٹر اٹل بہاری واجپئی اور مسٹر اور مسٹر منموہین سنگھ دونوں کو کشمیرمسئلہ کے حل کے لئے سخت کوششوں کے لئے یاد کیا جائیگا۔
اس دوران سابق مرکزی وزیر کپل سبل نے جموں و کشمیر مسئلہ پر وزیر اعظم نریندر مودی کے تبصرے کو محض بيان بازی بتایا ہے۔ انهوں نے ایک ٹویٹ میں کہا، "ہر روز جوان اور اور پولیس اہلکار شہید ہو رہے ہیں۔ کیا حکومت اس کا جواب دے گی؟ لوگوں کی جان جانے کا سلسلہ کب بند ہو گا۔ ”
یواین آئی

