سرینگر: سابق مرکزی وزیر پروفیسر سیف الدین سوزنے کہا ہے کہ”جو لوگ (یعنی مین اسٹریم جماعتیں ) پنچایتوں کےلئے الیکشن کا انعقاد چاہتے ہیں وہ اپنے خیالات کی بھول بھلیوں میں ایسے کھو چکے ہیں کہ اُن کو عام لوگوں کی مصیبتوں کا صحیح اندازہ نہیں ہو رہا ہے ۔
میرا انداز ہ ہے کہ اگر یہ جماعتیں پنچایتی الیکشن پر زور دیتی رہیںگی تو اُن کو میدان میں اتر کر عوامی سطح کی پریشانیوں کا خوب اندازہ ہوگا اور شرمندگی اٹھانی پڑے گی!میرا یہ خیال ہے اور خواہش بھی ہے کہ مین سٹریم (Mainstream)جماعتیں مل کراُن گھرانوں کے یہاں پہنچیں جہاں ان گنت معصوم جانیں ضائع ہو گئی ہیں اور پیلٹ اور دوسری مصیبتوں کے شکار لوگ کسی طرح کی راحت سے سے محروم ہیں۔
کم از کم مین اسٹریم جماعتوں کو عوامی مشکلات کا اندازہ بھی ہوگا اور مستقبل کو سنوارنے کا ایک نیا احساس پیدا ہوگا۔دریں اثناءمیں نے آج صبح مسٹر چدمبرم (سابق وزیر داخلہ ) سے ٹیلی فون پر بات کی اور اُن کو کشمیر کے سیاسی جھگڑے کا با مقصد حل تلاش کرنے کے سلسلے میں اُن کی تجاویز کےلئے مبارکباد دے دی۔ میں نے چدمبرم کو کشمیر آنے کی دعوت دی تاکہ وہ اندازہ کریں کہ کشمیریوں کو موجودہ مشکلات سے نکالنے کےلئے اُن کی تجاویز کا کشمیری عوام نے کس طرح کا خیر مقدم کیا ہے۔
مسٹر چدمبرم نے مجھے یقین دلایا کہ وہ سرد موسم کے باوجود کشمیر آنے کی پوری کوشش کریںگے۔ میں نے مسٹرچدمبرم کی ایک تجویز کو قبول نہیں کیا کہ ریاست میں گورنر رول (Rule) قائم ہوکیونکہ میرا ہمیشہ یہ خیال رہا ہے کہ چُنی ہوئی حکومت کتنی بھی خراب ہو وہ گورنر رول سے بہتر ہوتی ہے۔ میرا اندازہ ہے کہ ریاست کے موجودہ گورنر شری این این ووہرہ بھی اسی خیال کے شخص ہیں۔مرکزی سرکار کویہ بات نوشتہ بر دیوار (Writing on the wall) کے طور سمجھنی چاہئے کہ کشمیر کے جھگڑے کو منصفانہ طریقے سے حل کرنے کےلئے حریت کانفرنس اور دوسری جماعتوں کے ساتھ با مقصد بات چیت جلد از جلد شروع کی جانی چاہئے۔“
