سرینگر: نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ ( ایم پی ) نے سرحدوں پر جاری تناو¿ کشیدگی ، گولہ بھاری ، فائرنگ اور آرپار قیمتی جانوں کی تلافی پر گہرے تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرحدوں پر کب تک تناﺅ، کشیدگی اور خون خرابہ جاری رہے گا؟ کب تک آر پار قیمتی جانوں کا اتلاف ہوتا رہے گا؟ کب تک آپس میں بچھڑے ہوئے عزیز و اقارب ایک دوسرے سے ملنے کا انتظار کریں گے؟
ان باتوں کا اظہار انہوں نے منگل کے روز شیرکشمیر بھون جموں میں پارٹی عہدیداروں اور کارکنوں کے ساتھ تبادلہ خیالات کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے ہند پاک کے درمیان لفظی جنگ اور دوریاں اور رنجشیں جاری رہنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ طریقہ کار دونوں ممالک کے مفاد کے منافی ہے اور ان اقدامات اور کاروائیوں سے تباہی اور بربادی کے سواکچھ حاصل نہ ہوگا۔
انہوں نے کہا آج تک ہمارے دو پڑ وس ممالک نے چار جنگیں بھی لڑیں لیکن تباہی کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا۔ دونوں ممالک اٹمی طاقتیں بھی ہیں اس لئے ہم بار بار اپیل کرتے آئے ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان کے رہنماو¿ں کو اپنے تمام حل طلب معاملے افہام و تفہیم کے ساتھ حل کرنا چاہئے کیونکہ امن بات چیت ہی مسئلہ کا واحد حل ہیں جس کی وکالت نیشنل کانفرنس گذشتہ 70 سالوں سے آیا کرتی ہے ۔
خونی لکیر کھنچ جانے کی وجہ سے لاتعداد لوگ اپنے عزیز و اقارب سے بچھڑ گئے اور ہزاروں اپنے قریبی رشتہ داروں کو دیکھنے کی آس لئے اس دنیا سے بھی چلے گئے۔انہوں نے کہا کہ میں ہندوستان اور پاکستان کی قیادت سے پھر ایک بار اپیل کرتا ہوں کہ دونوں ممالک ہٹ دھرمی اور انا کو ترک کرکے غیر مشروط مذاکراتی عمل شروع کرے تاکہ تمام حل طلب معاملات بشمول مسئلہ کشمیر پر بات ہو۔
مرکزی کی غلطیوں ،وعدہ خلافیوں اور بار بار مرکزی قوانین نافذ کرنے سے آج ریاست کے حالات دن بہ دن بدتر ہوتے جارہے ہیں، حالات سدھرنے کی کوئی بھی کرن دکھائی نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ مہاراجہ نے ا±س بھارت کیساتھ الحاق کیا تھا جس ہندوستان ہند، مسلم ، سکھ ، عیسائی اور دیگر مذاہب کے لوگ اپنی اپنی مذہبی آزادی اور آزادی کا اظہارِ رائے کیساتھ بودباش کرسکیں۔اس موقعہ پر معاون جنرل سیکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال ، سٹیٹ پرویژنل نائب صدور جموں ایڈوکیٹ رتن لال گپتا ، کشمیری سنگھ، اور دیگر لیڈران بھی موجود تھے۔
ادھرجموں وکشمیر نیشنل کانفرنس ابتدا سے ہی ریاست میں امن کی فضا قائم ودائم رکھنے اور ہمیشہ ریاست کے لوگوں کو خوشحال امن وامان کی زندگی بسر کرنے کے خواہاں رہی ہے ۔آج ہم سب پر یہ ذمہ داری اور فرض عائد ہوتا ہے کہ ریاست میں مکمل امن کی بحالی کے لئے ہماری مشترکہ کوششیں اور پہل ہونی چاہئے کیونکہ امن وامان میںہی ریاست کی خوشحالی اور تعمیر وترقی کے راز مضمر ہے ۔ لوگوں میں اطمینان قلب اور حق کی آواز بلند کرنے کے ساتھ ساتھ مذہبی آزادی ہونا نیشنل کانفرنس ترجیحات میں شامل ہیں ۔
ریاست کے صدیوں بھائی چارہ کی علم کو روشن رکھنا اس جماعت کا نصب عین رہا ہے اس کے ساتھ ساتھ ریاست کے تینوں کی یکساں ترقی شامل حال ہیں ان باتوں کا اظہار صدر جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اندرول سے آئے ہوئے پارٹی سے وابستہ سینئر عہدیداروں اور کارکنوں کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے ۔ ان نے کہا کہ ریاست اس وقت مشکل ترین اور نازک دور سے کزر رہی ہے اور امن و قانون کی حالات دن بد سے بدتر ہورہے ہیں اس گھڑی ہم سب پر یہ ملی ذمہ داری عائد ہوتی کہ ہم جٹ کر ریاست جموں وکشمیر کو تباہی اور بربادی کے ماحول سے بچا سکیں۔
نیشنل کانفرنس ہمیشہ ریاست کو مشکل اور کھٹن دور میں عوام کے شانہ بشانہ رہ کر مصیبتوں اور نازک گھڑیوں ساتھ دے کر امن وقانون پٹری پرلانے میں بھر پور کردار ادا کیا ہے جو ایک تاریخ ہے ۔ اس موقعہ پر انہوں نے نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ پارٹی میں شمولیت کرنے پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ یہی ہمارے مستقبل کے میمار ہے ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کارکنوں اور عہدیداروں سے ہدایت کی کہ وہ لوگوں کے پاس جاکر نیشنل کانفرنس کی پالسیوں اور لائحہ عمل کو احسن طریقے سے لوگوں کے سامنے پیش کریں۔ اس موقعہ پر پارٹی کے معاون جنرل سیکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال ، ایس ایس صلاتیہ ، اجے سدھوترا، ایڈوکیٹ رتن لال کپتا، کشمیری سنگھ ، شیخ بشیر احمد ، یوتھ صوبائی صدر اعجاز جان اور دیگر لیڈران بھی موجودتھے۔

