کشمیر دشمن عناصر کو دھول چٹانا وقت کی اہم ضرورت
سرینگر/02جنوری/: ریاست اس وقت شدید بحران کی نذر ہوگئی ہے، امن و امان کا فقدان ،لوگ عدم تحفظ کے شکار ہیں، چاروں طرف غیر یقینیت اور بے چینی کی فضا ہے جبکہ دوسری جانب کشمیر کے ازلی دشمنوں نے پی ڈی پی کے بے نقاب ہونے کے بعد کشمیر میں اپنے مزید اعانت کاروں کو کام پر لگا رکھا ہے تاکہ کشمیر دشمن کاموں کیلئے انہیںمستقبل میں استعمال کیا جاسکے۔سی این آئی کو موصولہ بیان کے مطابق ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے آج پارٹی ہیڈکوارٹر پر شمالی کشمیر سے آئے ہوئے پارٹی عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقعے پر صوبائی صدر ناصر اسلم وانی اور خواتین ونگ کی ریاستی صدر شمیمہ فردوس بھی موجود تھیں۔ علی محمد ساگر نے اپنے خطاب میں لوگوں کو ہوشیار کرتے ہوئے کہاکہ وادی میں اس وقت آر ایس ایس کے اعانت کار سرگرم ہیں اور مختلف لبادے اوڑھ کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں۔ ایسے عناصر کو دھول چٹانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس عوامی اشتراک اور لوگوں کے بھر پور تعاون سے اُن تمام عناصر کے مذموم ارادوں کا ناکام بنائے گی جنہوں نے جموں و کشمیر کی سالمیت ، وحدت اور انفرادیت کا سودا کرنے کیلئے اپنے ضمیر کو بھیچ ڈالا ہے۔پی ڈی پی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے جنرل سکریٹری نے کہاکہ قلم دوات جماعت والوں نے بے شرمی کی تمام حدیں پار کردی ہیں اور اس جماعت کے خودساختہ لیڈران آج پھر سے بھاجپا کیخلاف بیانات جاری کررہے ہیں اور لوگوں سے بھاجپا کیخلاف حمایت طلب کررہے ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ پی ڈی پی والوں کو اقتدار میں رہتے ہوئے بھاجپا کی ایک بھی بات غلط نہیں لگتی تھی اور محبوبہ مفتی ہر موقعے پر بھاجپا اور مرکز کی سخت گیر پالیسیوں کے دفاع میں آجاتی تھیں لیکن اقتدار سے بے دخل کئے جانے کے بعد اچانک موقف میں تبدیلی آگئی اور آج کل آئے روز بھاجپا اور مرکز کی نتیجہ چینی کی جاتی ہے۔ یہ محبوبہ مفتی اور اُن کی پارٹی کی دوغلی پالیسی نہیں تو اور کیا ہے۔ انہوں کہا کہ پی ڈی پی نے 2015میں بھاجپا کے ساتھ لوگوں کے منڈیٹ کے عین برعکس اتحاد کرکے ریاست کو اندھیروں میں دھکیل دیا۔ موجودہ بدترین صورتحال کیلئے پی ڈی پی کی دغابازی اور وعدہ خلافی مکمل طور پر ذمہ دار ہے۔ پی ڈی پی والوں نے پہلے لوگوں سے بھاجپا کیخلاف اور تبدیلی کیلئے ووٹ مانگے لیکن الیکشن نتائج کے ساتھ ہی یہ لوگ بھاجپا کے ساتھ مل گئے اور اقتدار ملنے کے بعد قلم دوات جماعت کے تبدیلی کے نعرے سراب ثابت ہوئے۔ ساگر نے کہا کہ پی ڈی پی اور بھاجپا مخلوط اتحاد کا ’ایجنڈا آف الائنس ڈھکوسلا نکلا اور دنوں جماعتوں کے تمام دعوے اور وعدے جھوٹ اور فریب ثابت ہوئے۔ پی ڈی پی والوں نے بڑے زور شور سے ایجنڈا آف الائنس کے نعرے لگائے لیکن ساڑے تین سال کی حکومت میں ایک بھی اعلان پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔ اُلٹا ان اعلانات اور وعدوں کے خلاف کام کیا گیا۔ قلم دوات جماعت والوںنے الیکشن سے قبل نوجوانوں کو بہت سہاونے خواب دکھائے لیکن اقتدار میں آنے کے بعد انہی نوجوانوں کیخلاف جنگ کا اعلان کیا۔ ناصر اسلم وانی اور شمیمہ فردوس نے اپنے خطابات میں پارٹی کی مضبوطی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس ہی وہ واحد سیاسی اور عوامی نمائندہ جماعت رہی ہے،جو ریاست کے تینوں خطوں کے لوگوں کے احساسات اور مفادات کے دفاع کے لئے ہمیشہ مالی اور جانی قربانی دیتے آئی ہے اور مستقبل میں بھی ریاست کی تینوں خطوں کے لوگوں کی تہذیب و تمدن ،بھائی چارہ ،مذہبی ہم آہنگی اور خصوصی پوزیشن کے دعاع کیلئے عملی طور میدانِ کارزار میں رہے گی۔ریاست کے تینوں خطوں کے لوگوں کی یکساں ترقی اور مذہبی آزادی کو بنائے رکھنا نیشنل کانفرنس کے بنیادی پروگرام میں ترجیح دی گئی ہے۔
