پی ڈی پی میں لیڈرکہلانے والے بہت سارے لیکن قائدکوئی نہیں،جاویدبیگ کے تیوربھی باغیانہ

By
5 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

کہاپارٹی کی موجودہ حالت کیلئے کسی اورزیادہ محبوبہ مفتی خودذمہ دار

سری نگر:٥،جولائی : ممبراسمبلی بارہمولہ جاویدحسن بیگ نے عمران انصاری ،عابدانصاری،محمدعباس وانی اوردگرکئی ارکان اسمبلی کے پی ڈی پی مخالف رویے یاباغیانہ طرزعمل کوحقیقت پسندانہ قراردیتے ہوئے طنزیہ اندازمیں کہا’بزرگوں کے انتقال کے بعدبہت سارے لوگ لیڈری کادعویٰ کرنے لگے لیکن کوئی قائدنہیں بن سکا‘۔کے این این کیساتھ ٹیلی فونک انٹرویوکے دوران ممبراسمبلی جاویدبیگ نے عمران انصاری سمیت کئی ممبران اسمبلی کے باغیانہ طرزعمل کوحقیقت پسندانہ قراردیتے ہوئے کہاکہ وزیراعلیٰ بن جانے کے بعدمحبوبہ مفتی نے عوام کے منتخب نمائندوں کوکبھی خاطرمیں نہیں لایابلکہ انہوں نے اپنے آس پاس مفادپرستوں ،دوست نمادشمنوں ،خوش آمدی کرنے والوں اورناتجربہ کارافرادکاٹولہ رکھا۔جاویدبیگ نے ’ہمیں اپنوں نے لوٹاغیروں میں کہادم تھا‘ کے مصداق واضح کیاکہ پی ڈی پی کی کشتی کوباہری لوگوں نے نہیں بلکہ اندربیٹھے کچھ مخصوص افرادنے غرق کرنے میں رول اداکیا۔انہوں نے کہاکہ ممبران اسمبلی کی بات سننے کیلئے محبوبہ جی کے پاس وقت نہیں ہوتاتھاجبکہ چاپلوس لوگوں کیلئے موصوفہ کادروازہ ہمیشہ کھلارہتاتھا۔پی ڈی پی صدرسے ناراض ممبراسمبلی بارہمولہ کاکہناتھاکہ بدقسمتی سے محبوبہ مفتی کے اردگرددوطرح کے لوگوں کاگھیرائوتھا،ایک وہ لوگ جنہوں نے غلط مشورے دیکرپی ڈی پی کی کشتی میں سوراخ کردیا،اوردوسرے وہ ناتجربہ کااورخوش آمدی لوگ جن کاصرف اپناکام سے مطلب تھا۔انہوں نے کہاکہ جولوگ الیکشن ہارگئے ،وہ سی ایم آفس کے قریب تھے ،اورجوالیکشن جیت کرآئے ،اُن کیلئے وزیراعلیٰ کادفتر’دلی ہنوزدوراست‘کے مصداق ناقابل رسائی رکھاگیا۔جاوید بیگ کاایک سوال کے جواب میںکہناتھاکہ گزشتہ4برسوں کے دوران پی ڈی پی کے اندرغلط رویہ کیخلاف اُٹھنے والی آوازیں دبی رہیں ۔انہوں نے کہاکہ محبوبہ سرکارکے دورمیں پارٹی ممبران اسمبلی کی وقعت بھکاریوں سے زیادہ کچھ بھی نہیں تھی ،جبکہ پارٹی سے وابستہ وزیروں کا حال بھی کچھ ایساہی تھا۔ممبراسمبلی بارہمولہ نے کہاکہ وحیدپرہ جیسے چاپلوس اورخوش آمدی لوگوں کی بات کاوزن ممبران اسمبلی اوروزراء سے زیادہ تھا۔جاویدحسن بیگ نے کہاکہ وحیدپرہ جیسے چاپلوس اورخوش آمدی کرنے والے لوگوں نے پارٹی کیساتھ ساتھ جموں وکشمیربینک کوبھی ذلیل وخوارکردیا۔انہوں نے کہاکہ پارٹی سے وابستہ ممبران اسمبلی نے گزشتہ4برسو ں کے دوران اپنی جانب سے پوری کوشش کی کہ محبوبہ مفتی کوصورتحال سے آگاہ کیاجائے لیکن ہماری باتوں کی اَن سُنی ہوتی رہی ۔جاویدبیگ نے کہاکہ ممبران اسمبلی وزارت نہیں عزت چاہتے تھے جواُنھیں کبھی نہیں دی گئی ۔انہوں نے کہاکہ 3برسوں میں وزیراعلیٰ کی حیثیت سے محبوبہ مفتی نے اُنھیں 5بارملاقات دی لیکن ہرملاقات 2یا3منٹ سے زیادہ وقت کیلئے نہیں تھی ۔جاویدحسن بیگ نے انکشاف کیاکہ اُنھیں مخلوط سرکارگرنے کی بھنک ایک دن پہلے ہی لگ چکی تھی۔اُن کاکہناتھا’’18جون کومجھے بی جے پی کے ایک جانکارممبراسمبلی نے نئی دہلی سے فون پریہ اہم اطلاع فراہم کی کہ کل یعنی19جون کوبی جے پی ،پی ڈی پی سے اپنی حمایت واپس لینے جارہی ہے ،اسلئے آپ محبوبہ جی سے کہیں کہ وہ وزیراعظم سے فوری ملاقات کیلئے وقت لیں تاکہ اس آنے والے سیاسی طوفان کوٹالاجاسکے‘۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے جاویدبیگ کاکہناتھاکہ میں نے 18جون کوصبح 9بجے محبوبہ مفتی سے بات کرنے کیلئے وزیراعلیٰ کے دفتراورموصوفہ کی رہائش گاہ کیساتھ فون پررابط کیالیکن ڈیڑھ گھنٹے تک مجھے ٹالاجاتارہا،اورمجھے محبوبہ جی کیساتھ بات نہیں کروائی گئی ۔انہوں نے کہاکہ اگلے روزیعنی19جون کومیں صبح 10بجے وزیراعلیٰ کے آفس واقع سیول سیکرٹریٹ سری نگرپہنچاتویہاں جب میں محبوبہ جی کیساتھ اہم ترین بات کرنے کیلئے اُن کے آفس کمرے میں داخل ہواتووہاں پہلے ہی دوافرادبیٹھے تھے ،اوربقول جاویدبیگ اس موقعہ پربھی محبوبہ مفتی نے میرے یہاں آنے کوکوئی اہمیت ہی نہیں دی بلکہ صرف اتناپوچھاکہ کوئی کام ہے کیا؟۔جاویدحسن بیگ کاکہناتھاکہ محبوبہ مفتی نے اپنے والدمرحوم مفتی صاحب کے بالکل برعکس خودکوچندمخصوص افرادتک محدودکررکھاتھا۔انہوں نے کہاکہ پی ڈی پی کی جوآج حالت ہے اُس کیلئے کسی اورزیادہ محبوبہ مفتی خودذمہ دارہیں کیونکہ انہوں نے کرسی پانے کے بعدپارٹی کے دیرینہ لیڈروں وکارکنوں اورممبران اسمبلی کونظراندازکیا۔انہوں نے پی ڈی پی کے اندرایک مخصوص خاندان کے کچھ افراداورکچھ چہتے لوگوں کاغلبہ ہونے کی شکایت کرتے ہوئے طنزیہ اندازمیں کہا’بزرگوں کے انتقال کے بعدبہت سارے لوگ لیڈری کادعویٰ کرنے لگے لیکن کوئی قائدنہیں بن سکا‘۔ممبراسمبلی بارہمولہ جاویدحسن بیگ نے پی ڈی پی میں رہنے یانہ رہنے پرلب کشائی کئے بغیرکہاکہ ہم تباہ ہوجانے کوتیارہیں لیکن ہم کسی بھی صورت میں سرنڈرنہیں کریں گے ۔کے این این/

Share This Article