پونچھ میں ایل او سی پر پاکستانی فائرنگ سے آرمی کیپٹن زخمی

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

جموں: جموں وکشمیر کے ضلع پونچھ میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے چکاں دا باغ میں پاکستانی فائرنگ کے نتیجے میں فوج کا ایک افسر زخمی ہوگیا ہے۔ فائرنگ کا یہ واقعہ منگل کی شام کو پیش آیا ہے۔ دفاعی ذرائع نے زخمی افسر کی شناخت مراٹھا لائٹ انفینٹری کے کیپٹن بنگوریہ کے بطور کردی ہے۔ اسے ائرلفٹ کرکے جموں اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

دفاعی ذرائع نے فائرنگ کے اس واقعہ کی تفصیلات فراہم کرتے ہوئے بتایا ’پاکستان کی جانب سے گذشتہ شام پونچھ کے چکاںدا باغ میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارتی فوج کی چوکیوں کو نشانہ بناکر شدید فائرنگ کی گئی۔

بھارتی فوج نے جوابی فائرنگ کی اور طرفین کے مابین گولہ باری کا تبادلہ شام کے چھ بجے تک جاری رہا‘۔ انہوں نے بتایا ’پاکستانی فائرنگ کے نتیجے میں کیپٹن بنگوریہ زخمی ہوئے جنہیں ائرلفٹ کرکے جموں شہر منتقل کیا گیا ہے‘۔ ذرائع نے بتایا کہ زخمی کیپٹن کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

پونچھ میں فائرنگ کا یہ واقعہ بھارتی فوج کے اس دعوے کے ایک روز بعد پیش آیا ہے جس میں پاکستان کی طرف سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کے جواب میں ایک میجر سمیت سات پاکستانی فوجیوں کو ہلاک جبکہ چار دیگر کو زخمی کردینے کی بات کہی گئی تھی۔

تاہم پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ایک بیان میں جنڈروٹ اور کوٹلی سیکٹرز میں بھارتی فوج کی فائرنگ سے چار فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا تھا ’بھارت کی جانب سے اس وقت ایک بڑا مارٹر گولہ داغا گیا جب فوجی اہلکار ترسیلی لائن کی بحالی کے کام میں مصروف تھے‘۔

بیان میں مزید کہا گیا تھا ’بھارت کی جانب سے مارٹر حملے کے بعد طرفین کے مابین گولہ باری کا تبادلہ شروع ہوا جس میں تین بھارتی فوجیوں کو ہلاک جبکہ متعدد دیگر کو زخمی کیا گیا‘۔ فائرنگ کے اس ہلاکت خیز واقعہ کے بعد انتظامیہ نے پیر کے روز چکاں داباغ اور راولاکوٹ کے درمیان ہفتہ وار راہ ملن بس سروس معطل کردی تھی۔ یو اےن آئی

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے