پلوامہ کے بعض علاقوں میں بدستور تیسرے روز بھی تعزیتی ہڑتال

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
????????????????????????????????????

سرینگر:فورسز کیمپ پر فدائین حملے میںدو مقامی فدائین سمیت3جنگجوﺅں کی ہلاکت کو لیکربدھ کو جنوبی قصبہ ترال اور پلوامہ کے بعض علاقوں میں بدستور تیسرے روز بھی تعزیتی ہڑتال کی وجہ سے معمول کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی جس دوران لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے مارے گئے جنگجوﺅں کے حق میں فاتحہ خوانی میں حصہ لیا۔ادھر پلوامہ میں دوروز کی ہڑتال کے بعد زندگی معمول پر آگئی۔

سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب کو لیتھ پورہ اونتی پورہ میں سی آر پی ایف کے تربیتی مرکز پر فدائین حملے میں جو3جنگجو مارے گئے ، ان میں16سالہ فردین کھانڈے ساکن ترال اور دربگام پلوامہ کا منظور احمد بابا بھی شامل تھا ۔تب سے پلوامہ ضلع کے بیشتر علاقوں میں تعزیتی ہڑتال شروع ہوئی ۔نمائندے نے بتایا کہ بدھ کوبدستور تیسرے روز بھی ترال، آری پل اور گردونواح کے بیشترعلاقہ جات میں دکانیں ، تجارتی مراکز اور دفاتر وغیرہ مکمل طوربند رہے جبکہ گاڑیاں سڑکوں سے غائب رہیں۔مکمل ہڑتال کے نتیجے میں بازار ویران اورسڑکیں سنسان پڑی رہیں، البتہ بڑی شاہراہوں پر ٹریفک کی جزوی نقل و حرکت جاری رہی ۔

حکام کی طرف سے ممکنہ احتجاجی مظاہروں کو روکنے کےلئے پولیس اور نیم فوجی دستوں کی خاصی تعداد تعینات کی گئی تھی ۔اس دوران آس پاس کے علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد جاں بحق ہوئے جنگجوکے لواحقین کے ساتھ تعزیت پرسی کےلئے نازنین پورہ پہنچی۔لوگوں کی آمد کا سلسلہ صبح سویرے شروع ہوکر پورا دن جاری رہا جس دوران فردین کے حق میں اجتماعی فاتحہ خوانی کی مجالس کا اہتمام بھی کیا گیا۔

اُدھرپلوامہ سے کے ایم ا ین نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ راجپورہ، دربگام ، شادی مرگ اور آس پاس کے دیگر علاقوں میں بھی بدھ کو بدستور تیسرے روزدکانیں اور کاروباری ادارے بند رہنے سے بازاروں میں وہرانی چھائی رہی۔اس دوران دربگام میں بھی منظور احمد بابا کے حق میں فاتحہ خوانی کی گئی جس میں لوگوں کی خاصی تعداد شریک ہوئی۔البتہ پلوامہ قصبہ اور دیگر ملحقہ علاقوں میں دوروز کی ہڑتال کے بعد بدھ کو دکانیں اور تجارتی مراکز کھل گئے اورٹرانسپورٹ سمیت دیگر کاروباری سرگرمیاں بحال ہوگئیں۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے