پتھراو سے فوج کو ڈرایا دھمکایا نہیں جاسکتا ہے۔ پتھراو کرنے والے ملی ٹینٹ ہے : بپن راوت

By
3 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

آج کے دور میں پتھر اور بندوق میں کوئی فرق نہیں

سرینگر؍16 دسمبر ؍ جے کے این ایس؍ فوجی چیف نے خشت باری کرنے والوں کو ملی ٹینٹ قرار دیتے ہوئے کہاکہ جنگجو مخالف آپریشن کے دوران پتھراو سے فوج کو ڈرایا دھمکایا نہیں جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ آج کے وقت میں پتھر اور بندوق میں کوئی فرق نہیں ہے۔ جے کے این ایس کے مطابق ایک انٹرویو کے دوران فوجی چیف لفتنٹ جنرل بپن راوت نے پلوامہ میں ہوئی ہلاکتوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ ایک طرف فوج عسکریت پسندوں کے خلاف نبر د آزما ہے تاہم دوسری جانب جنگجو مخالف آپریشن کے دوران فوج پر پتھرا وکیا جاتا ہے جس کے نتیجے میں فورسز اہلکاروں کی جانیں خطرے میں پڑجاتی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پتھراو کرنے والوں کوملی ٹینٹ تصور کیا جائے کیونکہ وہ ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث افراد کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہلاکتوں سے کشمیر میں فوج کے خلاف ناراضگی بڑھنے کے بارے میں پوچھے گئے سوا کے جاوب میں فوجی سربراہ نے کہاکہ وادی کے لوگ جنگجوؤں سے ڈرتے ہیں نہ کہ فوج سے ۔ انہوں نے کہاکہ یہ بات صحیح ہے کہ پتھر او کے دوران گولیاں نہیں چلنی چاہئے تاہم آج کے دور میں پتھر اور بندوق میں کوئی فرق ہی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہم کورٹ کے سامنے جوابدہ ہے تاہم اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپ کے دوران نوجوان ہم پر پتھراو کرئے اور ہمارے اہلکار ہاتھوں پر ہاتھ بیٹھ کر تماشہ دیکھتے رہیں۔ انہوں نے کہاکہ فوج کو پتھراو سے ڈرایا دھمکایانہیں جاسکتا ہے۔ فوجی چیف کے مطابق تصادم کے دوران نوجوانوں کی جانب سے جب پتھراو کیا جاتا ہے تو اس دوران فورسز اہلکاروں کے جان ومال کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں اور وہ اپنی جانوں کو بچانے کیلئے ہی جوابی کاررروائی کرتے ہیں۔ فوجی چیف کا مزید کہنا تھا کہ ریاست خاص کروادی کشمیر میں حالات دن بدن معمول پر آرہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جنگجوؤں کے خلاف فورسز نے بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا جس کے زمینی سطح پر مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔ بپن راوت کے مطابق پچھلے تین ماہ کے دوران سیکورٹی فورسز نے جھڑپوں کے دوران سو سے زائد عسکریت پسندوں کو مار گرایا جس کے نتیجے میں جنگجو تنظیموں میں حوصلہ شکنی پائی جار ہی ہے۔

Share This Article