نئی دہلی : وزیر خارجہ سشما سوراج نے کہا ہے کہ پاکستان نے انسانی ہمدردی کے نام پر کلبھوشن جادھو کی اہلیہ اور والدہ سے کرائی جانے والی ملاقات کو پروپیگنڈے کے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا ہے اور لگتا ہے پاکستان کوئی شرارت کرنا چاہتا ہے۔انہوں نے راجیا سبھا میں کہا کہ آگے بڑھنے کے لیے یہ ملاقات ایک موقع ثابت ہو سکتی تھی لیکن پاکستان نے اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا۔
مانیٹر نگ ڈیسک کے مطابق کلبھوشن جادھو کی اہلیہ اور والدہ سے کرائی جانے والی ملاقات کے بعد پیدا شدہ صورتحال پر وزیر خارجہ سشما سوراج نے جمعرات کی صبح پارلیمنٹ کے ایوان سے خطاب میں پاکستان کے دفتر خارجہ کے دروازے پر موجود پاکستانی میڈیا کے نمائندوں کے رویے پر بھی برہمی کا اظہار کیا۔
انہوںنے بتایا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سمجھوتا تھا کہ جادھو کی والدہ اور اہلیہ سے سوالات کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ’تاہم پاکستانی میڈیا کو موقع دیا گیا اور انھوں نے جادھو کی والدہ اور اہلیہ کو طعنے دیئےاور طرح طرح کے الزامات لگائے۔‘
انھوں نے مزید کہا ’جادھو کی والدہ اور اہلیہ کو لے جانے والی کار کو بھی جان بوجھ کر وہاں روکا گیا تھا اور اس کی وجہ بھی میڈیا کو موقع دینا تھا۔‘سشما سوراج کا کہنا تھا کہ اس ملاقات کے بارے میں انڈین ڈپٹی کمشنر کو بتایا نہیں گیا تھا اور جادھو کی اہلیہ اور والدہ کے کپڑے تبدیل کیے گئے اور جب کچھ دیر بعد انھوں نے پوچھ تاچھ کی تو انھیں ملاقات کے لیے لے جایا گیا۔
’جادھو کی ماں کو کیبل ساڑھی کے بجائے شلوار کرتا پہننے پر مجبور کیا گیا۔ بندی چوڑیاں، منگل سوتر اتارے گئے، ماں کے بھی منگل سوتر اتارے گئے۔۔۔ کوئی غلط بیانی نہ ہو جائے اس لیے میں نے آج صبح ان کی ماں سے پھر بات کی۔‘انھوں نے کہا کہ جادھو کی اہلیہ کے جوتے ملاقات سے پہلے اتارے گئے اور پھر بار بار مانگنے پر نہیں دیے گئے۔ان کا کہناتھا ’مجھے لگتا ہے پاکستان اس پر کچھ شرارت کرنا چاہتا ہے۔ کبھی کہتے ہیں چپ تھی، ریکارڈر تھا۔۔۔ کیمرہ تھا۔انھوں نے کہا کہ اگر جوتے میں چپ یا کیمرہ تھا تو وہ اسی وقت کیوں نہیں بتایا گیا۔
سشما سوراج کے مطابق جادھو کہ اہل خانہ کے مطابق وہ ملاقات میں دباو¿ میں لگ رہے تھے۔’ملاقات سے لوٹنے کے بعد ماںاور اہلیہ نے بتایا وہ دباو¿ میں لگ رہے تھے۔ جیسے جیسے ملاقات بڑھی پتہ چل رہا تھا کہ انھیں سکھا پڑھا کر بھجوایا گیا تھا۔‘
انڈین وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ جادھو کی والدہ اپنے بیٹے سے مراٹھی میں بات کرنا چاہتی تھیں تاہم انھیں ایسا نہیں کرنے دیا گیا اور ان کا مائکروفون بھی بند کیا گیا۔انھوں نے یہ بھی بتایا کہ جادھو کے اہل خانہ کے ہمراہ موجود انڈین ڈپٹی ہائی کمیشن کو ان کے کپڑے بدلوائے جانے، جوتے لیے جانے اور ملاقات میں اپنی زبان نہ بولنے دینے کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا۔ کیونکہ ڈپٹی ہائی کمشنر کو بنا بتائے والدہ اور اہلیہ کو پچھلے دروازے سے ملاقات کے لیے لے جایا گیا۔
خیال رہے کہ پاکستان نے مبینہ انڈین جاسوس جسے پھانسی کی سزا سنائی جا چکی ہے کو ان کے اہلِ خانہ سے ملاقات کے لیے تین دن قبل پاکستان آنے کی اجازت دی تھی۔یاد رہے کہ عالمی عدالت انصاف نے کلبھوشن جادھو کی پھانسی پر عملدرآمد اپنے فیصلے تک روک دیا ہے جبکہ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ انھوں نے عدالت میں اپنا جواب دائرکر دیا ہے۔
انڈین وزارت خارجہ نے ملاقات کے دوسرے روز بیان میں کہا تھا کہ پاکستان نے کلبھوشن کی فیملی کی ’توہین‘ کی اور ملاقات کا جو طریقہ کار اختیار کیا گیا وہ طے شدہ اصولوں سے مختلف تھا۔تاہم جواب میں پاکستانی دفتر خارجہ نے انڈیا کے بیان کو مسترد کر دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ الفاظ کی جنگ میں نہیں پڑنا چاہتا اگر کچھ تحفظات تھے تو انھیں دورے کے دوران بیان کیا جانا چاہیے تھا۔
دفتر خارجہ کے تحریری بیان میں تو کلبھوشن کی اہلیہ کے جوتے کے بارے میں کچپھ نہیں کہا تاہم پاکستان کے مقامی میڈیا میں ان کے جوتے کے مشکوک ہونے کے بارے میں دفتر خارجہ کے ترجمان کے بیان کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔

