ٹنگڈار معرکہ آرائی فرضی ،سید علی گیلانی کا دعویٰ

By
6 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
Kashmiri separatist leader Syed Ali Shah Geelani

فوج وفورسز نے سینکڑوں فرضی کارروائیوں کی تاریخ رقم کرکے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا

سری نگر:۶،جون:کے این این / سید علی گیلانی نے ٹنگڈار جھڑپ کو فرضی قرار دیتے ہوئے کہا کہ فوج وفورسز نے اس طرح کی سینکڑوں فرضی کارروائیوں کی تاریخ رقم کرکے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا۔کے این این کو بھیجے گئے بیان کے مطابق حریت (گ)چیرمین سید علی گیلانی نے بھارتی افواج کے ہاتھوں پلوامہ کے دوجوانوں سمیت پانچ جنگجوؤں کو مشتبہ فرضی جھڑپ میں شہید کئے جانے کے بعد نامعلوم قرار دے کر ٹنگڈار کے سرحدی علاقے میں دفن کرنے کی ظالمانہ کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے افواج نے اس طرح کی سینکڑوں فرضی کارروائیوں کی تاریخ رقم کرکے جنگی جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ حریت راہنما نے شہدائے ٹنگڈار کو شاندار الفاظ میں خراج عقیدت ادا کرنے کے علاوہ شہداء کے لواحقین کے ساتھ اپنی دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے صبرو استقلال کو خراج تحسین ادا کیا۔ شیراز احمد شیخ کے نماز جنازہ کے موقعہ پر ایک بڑے اجتماع سے اپنے ٹیلیفونک خطاب میں سید علی گیلانی نے کہا کہ 1947 ؁ء سے بھارت کے جبری قبضے کے خلاف ہماری تحریک حقِ خودارادیت جاری وساری ہے۔ اس مقدس مشن کے لیے ہمارے جوان بیش بہا قربانیاں پیش کررہے ہیں۔ 1947 ؁ء میں جموں میں لاکھوں لوگوں کو دھوکہ دہی سے پاکستان ہجرت کرنے اور وہاں پہنچانے کا فریب دے کر انتہائی بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا۔ یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ بھارت کے ظالم حکمران اپنے جبری قبضے کو دوام بخشنے کے لیے یہاں کے لوگوں کو آہنی ہاتھوں کے ساتھ زیر کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لیے یہاں قتل وغارت، لوٹ مار کے علاوہ جیلوں کے دروازے کھول کر اسیران زندان کے ساتھ غیر انسانی سلوک روا رکھے ہوئے ہے۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے سامنے جو قراردادیں موجود ہیں ان پر بھارت نے بھی دستخط کئے ہیں۔ آج وہ اپنی فوجی طاقت کے بل بوتے پر ان قراردادوں سے صاف مکررہا ہے اور اسی طرح طاقت کے نشے میں مغرور ہوکر ہمارے حق خودارادیت کے مطالبے کو کچلنے کی راہ پر گامزن ہے۔ بھارت کے اس جبری قبضے کے خلاف اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک ہمارے نوجوان نجیب خطیب جیسے پائیلاٹ، ڈاکٹر محمد رفیق جیسے یونیورسٹی کے پروفیسر اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اس تحریک کا حصہ بنے ہوئے جام شہادت نوش کرگئے ہیں۔ میں اپنے حریت پسند نوجوانوں سے دردمندانہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ آج سے ہی کسی بھی وقت منعقد ہونے والے نام نہاد الیکشن کا مکمل بائیکاٹ کرنے کے لیے عوام بیداری مہم شروع کریں، کیونکہ الیکشن میں حصہ لینے والے یہی وہ لوگ ہیں جو ہمارے عوام کے سامنے اپنوں کی شکل میں آتے ہیں، لیکن ووٹ حاصل کرنے کے بعد بھارت کے ظالم اور جابرانہ خاکوں میں رنگ بھرنے کے لیے استعمال ہوتے رہتے ہیں۔ ان لوگوں کی حیثیت محض کٹھ پتلیوں کی ہوتی ہے، ایسے ہی لوگوں نے ہمارے سیاحتی مقامات، جنگلات اور سرسبز اراضی کو ریاست سے باہر کے سرمایہ داروں کو یا تو لیز پر دیا گیا ہے یا پھر انہیں بیچ ڈالا ہے۔ ہماری معیشت کو دو دو ہاتھوں لوٹ رہے ہیں اور یہاں کی تہذیب، ثقافت اور مسلم اکثریتی کردار کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی مذموم کوششوں میں لگے ہوئے ہیں۔ حریت راہنما نے نوجوانوں سے اُمید ظاہر کی کہ وہ تحریک آزادی کے لیے دی جانے والی بیش بہا قربانیوں کی حفاظت کرنے کے لیے آگے آئیں۔ فروعی اختلافات میں اُلجھے بغیر اتحاد واتفاق کا دامن تھامے اپنی مقدس تحریک کے خلاف ہورہی گھناؤنی سازشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کریں اور دشمن کی چالوں سے خبردار رہتے ہوئے تحریک آزادی کو فرقہ وارانہ رنگ دے کر انتشار کی دلدل میں پھنسانے کی تمام مذموم سازشوں کو ناکام ونامراد بنائیں۔ اس دوران حریت چیرمین سید علی گیلانی نے حریت کے سینئر راہنما غلام محمد خان سوپوری کو مسلسل چوتھی بار بدنام زمانہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت رات کی اندھیریوں میں کوٹ بلوال جیل جموں منتقل کرنے کی انتقام گیر کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے خان سوپوری اور 80برس کے بزرگ محمد سبحان وانی ڈانگرپورہ سوپور جوکہ پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کوٹ بلوال جیل میں ایام اسیری گزار رہے ہیں کے صبرواستقلال کو خراج تحسین ادا کیا۔ حریت راہنما نے تحریک حریت چیرمین محمد اشرف صحرائی کے علاوہ دیگر سینئر راہنماؤں محمد اشرف لایا اور بلال صدیقی کو مسلسل خانہ نظربند رکھے جانے کی بلاجواز پولیس کارروائی کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔

Share This Article