واقع کے خلاف شدید غم وغصے کا اظہار ، ملوث فورسز اہلکاروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی مانگ کی
سرینگر /06جنوری /سی این آئی / 6جنوری 1993کے آگ و آہن کی 25ویں برسی پر شمالی کشمیر کے سوپور قصبے میںسے دی گئی ہڑتالی کال کے نتیجے میں مکمل ہڑتال کے باعث زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئی جبکہ اس واقعہ کو لیکر درجنوں مزاحتمی تنظیموںنے تقریبات کا اہتمام بھی کیا تھا جس میں مقررین نے اس واقع کے خلاف شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ملوث فورسز اہلکاروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی مانگ کی ہے تاکہ لوگوں کو انصاف مل سکے۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا نمائندے کے مطابق 6جنوری 1993کے آگ و آہن کے واقعے کے خلاف جس میں 96افراد کی جانیں اور کروڑوں روپیہ مالیت کی املاک کو راکھ میں تبدیل کر دیا گیا تھا کے اس دلدوز واقعہ کے خلاف ہڑتالی کال کی وجہ سے شمالی کشمیر کے سوپور قصبے میں مکمل ہڑتال سے زندگی درہم برہم ہو کر رہ گئی ، کاروباری ادارے ٹھپ رہے ، سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت بھی معطل رہی جبکہ اس واقعہ کو لیکر کئی مزاحتمی تنظیموں کی جانب سے واقعے کے بارے میں تقریبات کا اہتمام کیا گیا جس میں پیپلز لیگ جموں کشمیر کے مرکزی رہنماؤں حاجی محمد رمضان، مشتاق احمد صوفی، نذیر احمد شاہ،فاروق احمد بٹ،محمد اشرف، غلام نبی، محمدعبداللہ، تحریک حریت، لبریشن فرنٹ سالویشن مومنٹ، ٹریڈیونین کے نمائندوں کے علاوہ شہدا کے لوحقین اورعام لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔تقریب میں مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ 6جنوری 1993تاریخ کا وہ منہوس ترین دن ہے جب فورسز اہلکاروںنے انسانیت کا گھلا گھونٹ کر عام شہریوں کو گولیوں سے نہ صرف بوندھ کر رکھ دیا بلکہ 20افراد کو زندہ جلانے کے ساتھ ساتھ کروڑوں روپیہ مالیت کی جائیداد کو گن پاوڈر کے ذریعے نذر آتش کر دیا ۔ مقررین نے کہاکہ تاریخ کا یہ سیاہ ترین دن تھا اور دنیا کی کسی بھی قوم پر آج تک اتنے ظلم نہیں ڈھائے گئے جتنے ریاست خاص کر وادی کے لوگوں پر ڈھائے جا رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی مٹی پلید کی جار ہی ہے ، اجتماعی قبریں دریافت ہو رہی ہیں ، نوجوانوں کو گرفتار کر نے کے بعد لاپتہ کر دیا گیا ہے ، فرضی جھڑپوں کا انعقاد کرکے فوج اور پیرا ملٹری فورسز کے آفیسران ترقیاں حاصل کرنے کی کوششیں کرتے ہیں اور گزشتہ 25 برسوں کے دوران آگ و آہن کا جو کھیل ریاست جموںوکشمیر میں کھیلا جا رہا ہے اس کی کہیں بھی مثال نہیں مل پا رہی ہے۔ دنیا کے کسی بھی کونے میں ماں کے گود سے بچے کو چھین کر گولیوں کا نشانہ نہیں بنایا گیا لیکن اس طرح کے واقعات ریاست خاص کر وادی کے حدود میں رونما ہوئے مائیں اپنے بیٹوں کی انتظار میں آنکھوں کی بینائی سے محروم ہو گئی ، والدین نے اپنے نوجوان بیٹوں کے تابوتوں کو کاندھا دیا ، انہیں لحد میں اتارا ، گھروں کے چراغ گل کر دئے گئے ۔ مقررین نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ عزتیں تار تار ہوئیں ، املاک کو نقصان پہنچایا گیا ، حقوق البشر کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں اور بین الاقوامی برادری اف تک نہیں کر رہی ہے اس سے بڑا المیہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ سال 2010میں بارہ مولہ کے تین نوجوانوں کو گھروں سے نکال کر نوکری کے بہانے مژھل پہنچا دیا گیا اور ایک ویران جگہ پر انہیں عسکریت پسند جتلا کر گولیوں سے بوندھ کر رکھ دیا گیا ۔ شوپیاں کے چار نوجوانوں کی خطا کیا تھی ، مرکنڈل ، بارہ مولہ ، پلوامہ ، سرینگراور شوپیاںمیں نوجوانوں کو گولیوں سے کس نے بوندھ کر رکھ دیا کیا اب بھی ایسے واقعات رونما نہیں ہوتے ہیں۔انسانی حقوق تنظیموں کے علمبرداروںنے انصاف پسند ملکوں سے مطالبہ کیا کہ وہ کشمیریوں کے دکھ ، درد ، بے انصافی ، ظلم ، استحصال کا مشاہدہ کریں اور ریاست کے لوگوں کو اس ظلم سے نکالنے کیلئے اپنے اثر رسوخ کا استعمال کریں۔

