جموں ،سرینگر: وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے شوپیاں ضلع کے بٹہ مورن علاقے میں تلاشی کاروائی کے دوران ایک عورت کی ہلاکت پر دُکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ تشدد کے جال میں مقامی اور معصوم شہری پھنس جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سول سوسائٹی اور حکومت کو مل جُل کر کام کر کے ریاست میں تشدد کے دور کا خاتمہ کرنا چاہئے۔محبوبہ مفتی نے سوگوار کنبے کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ادھرجموں وکشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے جنوبی ہندوستان کے شہر بنگلور میں دو کشمیری بھائیوں کو زدوکوب کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ رپورٹوں کے مطابق بنگلور کے سنجے نگر میں قریب دس افرادکے گروپ نے محض اس وجہ پر دو کشمیری بھائیوں کو زدوکوب کیا کہ وہ کناڈا میں بات نہیں کرپائے۔ کشمیری بھائیوں کو زدوکوب کرنے کا یہ واقعہ گذشتہ پیر (11 دسمبر) کو پیش آیا ہے۔ زدوکوب کا نشانہ بننے والوں میں مینجمنٹ اسٹیڈیز کا 24 سالہ طالب علم اور اس کا بڑا بھائی شامل ہیں۔ حملہ آوروں نے نہ صرف ان بھائیوں کو زدوکوب کیا بلکہ ان کی گاڑی کو بھی شدید نقصان پہنچایا تھا۔ اس دوران محبوبہ مفتی نے حملہ آوروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے مائیکرو بلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک ٹویٹ میں کہا ’بنگلور میں دو کشمیری بھائیوں کو زدوکوب کا نشانہ بنانے کے واقعہ سے افسردہ ہوں۔ میں انتظامیہ (بنگلور انتظامیہ) پر زور دیتی ہوں کہ وہ ملوثیں کے خلاف سخت کاروائی کرے‘۔ زدوکوب کرنے کا یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا جب متاثرہ بھائیوں نے اس سلسلے میں متعلقہ پولیس تھانہ میں شکایت درج کرائی۔ ایک رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں میں سے بعض کو گرفتار کیا گیا ہے۔
