اہم سرکاری عمارتوں، پولیس اسٹیشنوں ،فورسز کیمپوں اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں پولیس و فورسز تعینات
سرینگر؍14؍جون؍ جے کے این ایس ؍ وادی میں عسکریت پسندوں کے ممکنہ حملوں کو ٹالنے کیلئے حفاظت کے غیر معمولی انتظامات عمل میں لائے گئے ہیں بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں پولیس و فورسز کی بڑی جمعیت تعینات کر دی گئی ہے جبکہ اہم شاہراؤں پر پولیس و فورسز مسافر بردار اور نجی گاڑیوں کو روک کر ان کی باریک بینی سے تلاشی لے رہے ہیں جبکہ مسافر وں کے شناختی کارڈ اور جامع تلاشی بھی لی جا رہی ہے ۔جے کے این ایس نمائندے کے مطابق دراندازی کے ذریعے عسکریت پسند س طرف آنے کے بیچ پوری وادی میں حفاظت کے غیر معمولی اقدامات اٹھائے گئے ہیں ۔ بھیڑ بھاڑ والے بازاروں میں لوگوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے پولیس و فورسز کی بڑی جمعیت تعینات کر دی گئی ہے جبکہ لوگوں کی نقل و حرکت پر بھی کڑی نظر رکھی جا رہی ہے ۔ نمائندے کے مطابق عسکریت پسندوں کے ممکنہ حملوں کو ٹالنے کیلئے حفاظت کے غیر معمولی انتظامات عمل میں لائے گئے ہیں اہم سرکاری عمارتوں ،پولیس اسٹیشنوں اور فورسز کے کیمپوں کی حفاظت سخت کر دی گئی ہے جبکہ اہم سیاسی شخصیات کی حفاظت کو بھی سخت کر دیا گیا ہے ۔ واد ی کے اطراف و اکناف میں پولیس و فورسز کی مشترکہ کاروائیوں کے دوران مسافر بردار اور نجی گاڑیوں کو روک کر ان کی باریک بینی سے تلاشی لی جا رہی ہے جبکہ مسافروں کو گاڑیوں سے نیچے اتار کر ان کی جامعہ تلاشی اور شناختی کارڈ بھی چیک کئے جا رہے ہیں ۔ نمائندے کے مطابق عسکریت پسندوں کے ممکنہ حملوں کو روکنے کیلئے وادی بھر میں پولیس و فورسز کو متحرک کر دیا گیا ہے جبکہ کئی دور دراز علاقوں میں فورسز کا گشت تیز کر دیا گیا ہے ۔ سرحدی ضلع کپواڑہ کے کئی علاقوں میں شبانہ گشت بڑھا دیا گیا ہے جبکہ سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی لوگوں کو اپنے گھروں سے باہر نہ آنے کی بھی صلاح دی جا رہی ہے ۔ فورسز اہلکار غیر متوقع طور پر رہائشی علاقوں کو اپنے محاصرے میں لے کر خانہ تلاشی شروع کردیتے ہیں اور اس دوران نہ صرف مکینوں سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے بلکہ افراد خانہ کے بارے میں بھی پوری تفصیلات حاصل کی جاتی ہیں ۔ نمائندے کے مطابق پہاڑی علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں نے فورسز پر الزام عائد کیا کہ سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی انہیں اپنے گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے جبکہ مویشی پالنے والوں کو اپنے مویشی چروانے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی ہے ۔ مویشی پالنے والے کئی افراد نے نمائندے کو بتایا کہ فورسز اہلکار ان کے عارضی شیڈوں میں داخل ہو کر ان سے پوچھ تاچھ شروع کردیتے ہیں جبکہ مویشیوں کو دور دراز بہکوں میں لے جانے پر بھی پابندی عائد کی جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کے مویشی محدود علاقے میں ہی گھاس چرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں ۔ مویشی پالنے والوں نے کہا کہ کنٹرول لائن کے نزدیک ان کے عارضی تعمیر کئے گئے شیڈوں میں ہر دن فورسز اہلکار تلاشی کرنے آتے ہیں اور اس دوران نہ صرف گھریلوں سامان کی تلاشی لی جاتی ہے بلکہ افراد خانہ کے بارے میں بھی باریک بینی سے تحقیقات کی جا رہی ہیں ۔ ادھر بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں پولیس و فورسزکی بڑی تعداد تعینات کر دی گئی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی نقل و حرکت کرنے میں بھی دشواریوں کا سامنا کرناپڑرہا ہے ۔ نمائندے کے مطابق عسکری کارروائیوں میں اضافہ کے بیچ پیدا شدہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے انتظامیہ نے حفاظت کے سخت انتظامات اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ لوگوں کے جان و مال کے تحٖفظ کو یقینی بنایا جا سکے ۔

