مسئلہ کشمیر کا پائیدار حل امن کی واحد ضمانت
موجودہ نامساعد حالات قابلِ تشویش ، پارٹی امن لوٹ آنے کی کوششوں میں پیش پیش: ڈاکٹر فاروق عبداللہ
سری نگر:۳۱،مئی:/ اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس نے مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کو امن کی واحد ضمانت قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیر وادی میں حالات دن بہ دن بگڑتے جارہے ہیں اور ہر سو اور سطح پر خوف ودہشت کا ماحول جاری ہے ۔پارٹی کے صدر وممبر پارلیمنٹ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ ریاست میں امن لوٹ آنے کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے ۔کے این این کو بھیجے گئے بیان کے مطابق مسلسل خونینی واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر( ایم پی ) ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اپنے رہائش گاہ پر پارٹی کے سینئر لیڈران سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالات دن بہ دن بگڑتے جارہے ہیں اور ہر سو اور سطح پر خوف ودہشت کا ماحول جاری ، لوگوں کی مال وجاں کا تحفظ کرنے میں موجودہ سرکار سیرے سے ہی ناکام ہوچکی ہے اور ہر روز خونینی واقعات رونماں ہونے پر پوری ریاستی عوام کو زبردست تشویش اور اہل کشمیر کے لئے لمحہ فکریہ قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس نے ہر سطح پر اور ہر موڈ پر امن کوششوں کو کامیاب بنانے کے لئے اپنے خدمات پیش رکھے اور ریاست میں مکمل امن کی بحالی کے ساتھ ساتھ خونینی واقعات بند ہونے پر تھوڑپھوڑ، کریک ڈاؤن ، گرفتاریاں اور بندشوں کے خلاف حق کی آواز جاری رکھی ہے اور اس پر قائم ودائم ہے کیونکہ نیشنل کانفرنس تشدد کے خلاف اور عدم تشدد کی حامی رہی ہے یہ جماعت حقوق بشری کی پاسبان اور لوگوں کی زبان رہی ہے ۔ نیشنل کانفرنس نے ہی مرحوم شیخ محمد عبداللہ کی قیادت میں ظلم وستم ، جبر استبداد اور غلامی کے خلاف تحریک شروع کی ہے کیونکہ کشمیری عوام 118 سالوں سے شخصی راج کی غلامی میں بری طرح جھگڑی ہوئی تھی اور ہمارے ساتھ امتیازی سلوک وہ بھی چرندے ، پرندے سمجھ کر اور غلام سمجھ کر ہم پر مصائب اور مشکلات کے پہاڑ ڈھائے جارہے تھے لیکن اللہ کا نام لیکر شیرکشمیر شیخ محمد عبداللہ نے ان ظالم وجابر حکمرانوں کا آخر کار خاتمہ ہی ہواکیونکہ ظلم کی کشتی آخر کار ڈوب جاتی اور اللہ اپنا قہر ظالموں پر نازل کر کے ان کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس روز اول سے ہی مسئلہ کشمیر کا حل افہام و تفہیم اور خلوص نیت کے ساتھ حل کرنے کی وکالت کرتے آئے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اس جماعت کی پُر خلوص قیادت نے ہندوستان اور پاکستان کی مضبوط دوستی کی حامی اور علم بردار رہی ہے اورقائد عظم شیخ محمد عبداللہ نے ہمیشہ کہتے رہے کہ مضبوط پاکستان مضبوط ہندوستان کی ضمانت ہے لیکن بدقسمتی ہے کشمیریوں کے ساتھ ہمیشہ نا انصافی کی گئی اور ہمارے ساتھ جو وعدے تحریری طور پر وعدے کئے گئے تھے ان سے منحرف ہوئے اور جس کی وجہ سے آج کشمیری عوام ایک تباہ کن دور سے گزر رہے ہیں ۔گزشتہ چار سالوں سے اہل کشمیر تباہ کن اقتصادی بدحالی اور معاشی طور ہر سطح پر کمزور کر دی گئی اور ریاست پر جی ایس ٹی لگا کر یہاں کے تاجر طبقوں کو روزی روٹی سے محروم کر دیا ۔ اہل کشمیر گزشتہ چار سالوں اللہ کے فضل وکرم کے بدولت ہی دو وقت کی روٹی کماتے ہیں۔ حالانکہ ریاست پر جی ایس ٹی لگانا کسی بھی صورت میں اچھا نہ تھا اور نہ موزون کیونکہ ہم نے پہلے ہی مرکزی سرکار اور ریاست کی نا اہل اور کشمیر دشمن سرکار کو جی ایس ٹی لگانے کے مضر اثرات بیان کئے تھے اور ہماری حکومت کے وزیر خزانہ ایڈوکیٹ عبدالرحیم راتھر نے جی ایس ٹی کے مضر اثرات سے حکومت اور مرکزی سرکار کے ساتھ ساتھ عوام کو باخبر کیا تھا اور اس سلسلے میں نیشنل کانفرنس نے بار بار پریس کانفرنس اور ریلی بھی نکالیں لیکن طاقت کے بل بوتے پر اور دلی کے آقاؤں کو خوش کرنے کے لئے ریاست پر جی ایس ٹی لگا کر اہل کشمیر کو اپنی مالی خود مختاری سے محروم کر دیا ۔ آج ریاست کی اقتصادی حالات نفی کے برابر ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس ریاست میں پائیہ دار امن لوٹ آنے کی متمئنی اور متلاشی ہے اور حکومت کو چاہئے کہ وہ ریاست میں امن لوٹ آنے کے لئے ایسے اقدامات کرے ۔ انہوں نے کہا مرکزی اور ریاستی سرکاروں کے پاس کشمیر پالیسی کی طر ف بے رخی کر رہے ہے اور بدقسمتی سے جس کی وجہ سے ہر روز خونینی واقعات پیش آتے ہیں اور خطہ کشمیر کے نو نہال اور نوجوان کی ہلاکتیں جاری رہنے سے امن لوٹ آنے کی امید نہ ہے ۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو ریاست کے حالات اور دیگر گون ہونے کا اندیشہ ہے اس لئے مار دھاڈ اور خونینی واقعات پیش آنے کی نوبت سے گریز کیا جائے اور امن بات چیت کے لئے ہندوستان اورپاکستان کو پہل کرنی چاہئے ۔ اجلاس میں پارٹی کے کارگزار صدر عمر عبداللہ نے لیڈران کو تاکید کی کہ وہ عوام کے ساتھ قریبی رابتہ رکھ کر پارٹی کی مضبوطی کے لئے متحرک ہوجائے ۔ ساتھ ساتھ لوگوں کے مشکلات اور مصائب کو حل کرانے میں اپنا رول ادا کرے۔ کیونکہ نیشنل کانفرنس نے ہمیشہ اپنا منشور خدمت خلق سمجھ کر کام کیا ہے ۔ انہوں نے بھی موجودہ حالات پر گہرے تشویش اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرکز اور ریاستی سرکاروں کو خلوص نیت کے ساتھ موجودہ تباہ کن حالات پر قابو پانے کے لئے آگے آنا چاہئے اور مسئلہ کشمیر کو افہام و تفہیم کے ساتھ حل کرنی چاہئے ۔ اس موقع پر پارٹی کے جنرل سیکریٹری علی محمدساگر نے پارٹی سرگرمیوں ، پارٹی امورات ، موجودہ ریاست کی سیاسی اور امن وقانون کے حالات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔پارٹی کے سینئر لیڈران ایڈوکیٹ عبدالرحیم راتھر ، ایڈوکیٹ چودھری محمدرمضان، میاں الطاف احمد، ناصر اسلم وانی ، ، سکینہ ایتو،ایڈوکیٹ محمد اکبر لون،شمیمہ فردوس، مبارک گل، آغا روح اللہ، اجلاس میں موجود تھے ۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست کے لوگوں ناگفتہ دہ حالات عروج پر ، کرپشن ، کنبہ پروری ، اقراء پروری ، گیران بازاری کی طرف توجہ دلایا اور کہا کہ انتظامیہ مفلوج ہو چکی ہے اور کرپشن میں غرق ہوچکی ہے لوگوں کاکوئی پریسان نہیں لازمی اور بنیادی خدمات لوگوں کو دستیاب نہیں۔ فرقہ پرستی کاروحجان دن بہ دن بڑھتا جارہا ہے ، متصب آر ایس والے ایسے بیانات دے رہے ہیں جو خرمین امن کو آگ لگانے کے برابر ہے ۔ اس لئے ایسے عناصروں سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی گئی جو ریاست کی تشخص ، انفرادیت ، کشمیریت کو زخ پہچانے کے در پہ ہے۔

