شوپیان:جنوبی ضلع شوپیان میں مسلسل چھٹے روز بھی تین نوجوانوں اوردو جنگجوﺅں کی ہلاکت پر تعزیتی ہڑتال رہی ۔ہڑتال کے نتیجے میں ضلع کے بیشتر علاقوں میں دکانیں ،کاروباری ادارے ،تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سرکاری اور غیر سرکاری دفاتر میں ملازمین کی حاضری برائے نام رہی ۔اس دوران جنوبی کشمیر کے جڑواں اضلاع شوپیان اور پلوامہ میں موبائیل انٹر نیٹ سروس معطل رکھی گئی ۔
ضلع میں پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے غائب رہا جسکی وجہ سے یہاں ہو کاعالم رہا ۔حساس علاقوں میں ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے خد شات کے پیش نظر پولیس وفورسز اہلکاروں کی اضافی تعیناتی عمل میں لائی گئی ۔یاد رہے کہ 27جنوری کو فوج کی فائرنگ سے جاوید احمد بٹ ولد عبدالرشید ساکنہ بالپورہ اور سہیل جاوید لون ولد جاوید احمد ساکنہ گنہ پورہ جاں بحق ہوئے تھے جبکہ کئی دیگر افراد زخمی ہوئے ۔اس سے قبل 24جنوری کو جنگجو مخالف آپریشن کے دوران17سالہ نوجوان شاکر احمد بھی جاں بحق ہوا تھا جبکہ اس واقعے میں دو لڑکیوں سمیت کئی دیگر افراد زخمی ہوئے ۔یہ واقعہ چھئے گنڈ سوپور میں پیش آیا تھا ۔
اس علاقے میں اسی روز معرکہ آرائی کے دوران حزب المجاہدین سے وابستہ دو مقامی جنگجو بھی جاں بحق ہوئے تھے ۔تاہم شہری ہلاکتوں کے حوالے سے ریاستی حکومت نے تحقیقات کے احکامات صادر کئے جبکہ گنہ پورہ شوپیا ن میں پولیس نے فوج کے خلاف قتل اور اقدام قتل کے تحت ایف آئی آر بھی درج کی ہے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ فوج کے ہاتھوں شوپیاں میں دونوجوانوں کے قتل پر گزشتہ روز قانون ساز اسمبلی میں اپوزیشن کے سخت ہنگامہ ہوا تھااورریاستی وزیر اعلیٰ کی مداخلت کے بعد اسپیکر کوندر گپتا نے بحث کرانے کی اجازت دی۔قانوں ساز اسمبلی کی کارروائی سوموار کو صبح دس بجے جیسے ہی شروع ہوئی، اپوزیشن ممبران اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور شوپیاںمیں ہوئی شہری ہلاکتوں پر بحث کرانے کا مطالبہ کیا۔سی پی آئی ایم کے لیڈر وممبر اسمبلی کولگام نے تحریت التواپیش کی۔ ا±ن کا کہنا تھا کہ شہری ہلاکتوں پر بحث کرائی جائے۔ حزب اختلاف کے ممبران نے اس دوران سرکار کے خلاف سخت نعرہ بازی کی۔اپوزیشن کے شدید ہنگامہ کے بعد وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اسپیکر کویندر گپتا سے اپیل کی کہ وہ ایوان میں اس معاملہ پر بحث کی اجازت دیں جس کے بعد ممبران نے بحث شروع کی۔
شوپیاں جیسے واقعات کو امن عمل کیلئے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے کہاکہ ہندو پاک کے درمیان تعطل کا شکار مذاکراتی عمل کو دوبارہ شروع کیا جائے تاکہ نہ صرف اندرون ریاست بلکہ سرحدوں پر بھی امن قائم ہوسکے۔ ایوان زیریں میں اپوزیشن ممبران کی طرف سے پیش کی گئی تحریک التوا پر ہوئی بحث کا جواب دیتے ہوئے وزیر اعلی نے کہاکہ شوپیان واقعہ پر کارروائی کی جائے گی اور اسی سے اداروں کو نظم و ضبط کا پابند بنایا جاسکتا ہے۔ شوپیاں واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے ایوان کو اس بات سے مطلع کیاکہ اس سلسلہ میں کیس درج کیاگیاہے اور ڈپٹی کمشنر شوپیاں تحقیقات کررہے ہیں جبکہ تحقیقات کو منطقی انجام تک پہنچایا جائیگا ۔
ادھر جاں بحق نوجوانوں کے ساتھ اظہار ِ یکجہتی کے حوالے سے چھٹے روز بھی شوپیان میں ہڑتال سے معمولات زندگی متاثر رہے ۔حکام کا کہنا ہے کہ امن وقانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کےلئے شوپیان اور پلوامہ میں انٹر نیٹ سروس معطل رکھی گئی ۔دریں اثناءاطلاعات کے مطابق ریل سروس کو بحال کردیاگیا ۔
