سرینگر//موجودہ حکومت نے گذشتہ3سال سے شہر خاص کو کرفیو کلچر کی نذر کردیا ہے اور اس تاریخی شہر کو اقتصادی بدحالی سے دوچار کرنے کے ساتھ ساتھ تعمیر و ترقی کے لحاظ سے بھی پیچھے دھکیلنے میں کوئی کثر باقی نہیں رکھی۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے آج شہر خاص کے تفصیلی دورے کے دوران مختلف مقامات پر معزز شہریوں اور لوگوں کے ساتھ تبادلہ خیالات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے شہر خاص کی تعمیر و ترقی کیلئے بڑے بڑے اعلانات کئے لیکن ابھی تک زمینی سطح پر کچھ بھی دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ نئے پروجیکٹ اور تعمیراتی کام شروع کرنا تو دور کی بات موجودہ پی ڈی پی حکومت نے سابق نیشنل کانفرنس حکومت میں شروع کئے گئے پروجیکٹوں پر جان بوجھ کر کام روک دیا ہے۔ جس سے یہ تاریخی شہر تعمیر و ترقی کے لحاظ سے پیچھے رہ گیا۔ آئے روز کرفیو اور بندشوں پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے ساگر نے کہا کہ ایک طرف حکومت عوام کو بنیادی ضروریات بہم پہنچانے میں ناکام ہوگئی ہے اور دوسری جانب آئے روز کرفیو کا نفاذ عمل میں لاکر یہاں کی آبادی کو مختلف نوعیت کے مسائل و مشکلات سے دوچار کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئے روز بندشوں اور کرفیو سے شہر کا کاروباری طبقہ بری طرح متاثر ہوا ہے اور اقتصادی بدحالی نے لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ نوجوانوں کو پشت بہ دیوار کیا جارہا ہے جبکہ نوکریوں کی فراہمی میں بے جا سیاسی مداخلت جاری ہے۔ سیاسی بنیادوں پر نوکریاں فراہم کیں جارہی ہیں جبکہ مستحق اور قابل اُمیدواروں پر شب خون مارا جارہا ہے، بڑے پیمانے پر چور دروازے سے بھرتیاں جاری ہیں، رشوت ستانی عروج پر ہے۔دورے کے دوران ساگر نے علامہ اقبالؒ سے منسوب شہر خاص کے گیٹ (باب الاقبال) کا معائینہ کیا، جو ڈیڑھ کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کیا گیا ہے۔ انہوں نے موقعے پر ہی خانیار سے بابہ ڈیمب تک لائٹنگ سسٹم کیلئے 30لاکھ روپے واگذار کئے۔ اس کے علاوہ انہوں نے براری نمبل کے گرد جاگنگ پاتھ کی تعمیر کیلئے ایک کروڑ 85لاکھ اور شاہ ہمدانؒ کمیونٹی ہال چلپان کوچہ (بہوری کدل) کیلئے مزید 6لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا۔ دریں اثناءساگر نے جواہر لال نہرو ہسپتال رعناواری میں روگی کلیان میٹنگ کی صدارت کی۔ میٹنگ میں ہسپتال کی کارکردگی اور مریضوں کو بہم پہنچائے جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا گیا ۔ میٹنگ میں بتایا گیا کہ اب ہسپتال میں گردوں کے مریضوں کی سہولت کیلئے Dialysisکی 4سے 6مشینیں دستیاب رہیں گی۔ساگر نے میٹنگ میں انتظامیہ سے ہسپتال کو درکار مزید طبی آلات اور ساز و سامان کیلئے فہرست مرتب کرنے کی ہدایت دی تاکہ وہ اس پر صرف ہونے والے رقومات ہسپتال کو واگذار کرسکیں۔ اس موقعے پر ہسپتال کے سپرانٹنڈنٹ ، ڈاکٹر حضرات اور دیگر عملہ بھی موجود تھے۔ دورے کے دوران ساگر کے ہمراہ پی ڈی ڈی، ایس ایم سی، پی ایچ ای، یو ای ای ڈی، لاﺅڈا کے اعلیٰ حکام بھی تھے۔

