ملبوسات وجوتے فروشوں اوربیکری والوں کی چاندی ہی چاندی

By
4 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

معیاراورقیمتوں کاکوئی تعین نہیں ،خریداروں کولوٹنے کی کھلی چھوٹ

سری نگر:۱۳،جون:/ اب جبکہ عیدالفطر کی تقریب سعیدجمعہ یاسنیچرکے روزمنائی جارہی ہے توبازاروں میں خریدوفروخت بام عروج کوپہنچ چکی ہے تاہم مختلف اشیائے ضروریہ کی قیمتوں اورمعیارپرسرکاری یاانتظامی سطح پرکوئی نگرانی نہیں ہورہی ہے ۔کے این این کے مطابق عیدالفظرمنانے کاانحصارچونکہ شوال کاچاندنظرآنے پرہوتاہے تولوگ کئی روزقبل سے ہی عیدخریداری میں جُٹ جاتے ہیں ۔ ملبوسات وجوتوں کی خریداری سب سے زیادہ ہوتی ہے کیونکہ امیرہویاغریب سبھی لوگ عیدکے روزنئے کپڑے زیب تن کرناپسندکرتے ہیں،اوربالخصوص چھوٹے بچوں بچیوں اورنوجوانوں کیلئے لازمی طورپرنئے کپڑے خریدے جاتے ہیں ۔چونکہ گزشتہ کئی دہائیوں یابرسوں سے زیادہ ترلوگ بالخصوص بچے اورنوجوان کپڑاخریدکراسے سلاناپسندنہیں کرتے بلکہ ریڈی میڈکپڑے ہی خریدتے ہیں ،اسلئے عیدکے موقعہ پرریڈی میڈملبوسات کاکاروبارکرنے والے دکانداروں کی چاندی ہی چاندی ہوتی ہے ۔ایسے کپڑے فروش من مانی قیمتوں پرکپڑے فروخت کرکے عام لوگوں کودودوہاتھوں سے لوٹ لیتے ہیں ۔والدین بھی عیدخریداری کے دوران اپنے بچوں بچیوں کیلئے دلکش اوردیدہ زیب کپڑے خریدناپسندکرتے ہیں ،اسلئے بچے جوکوئی بھی ڈریس پسندکرتے ہیں ،والدین اُسکی قیمت اداکرنے پرمجبورہوجاتے ہیں ۔بچے کی پسنداوروالدین کی مجبوری کاملبوسات فروش خوب فائدہ اُٹھاکراورموقعہ غنیمت جان کرگراں بازاری اورناجائزمنافع خوری کے ریکارڈتوڑنے سے کبھی کتراتے اورنہ گبھراتے ہیں ۔کتراتے اسلئے نہیں کہ اُنھیں اللہ کاخوف نہیں ہوتا،اورگبھراتے اسلئے نہیں کیونکہ اُنھیں کسی سرکاری محکمے کاکوئی ڈرنہیں ،کہ اگرپکڑاجائے توسزاہوگی ۔یہاں یہ بات حیران کن ہے کہ جس طرح غذائی اجناس بشمول دودھ،سبزیوں ،گوشت ومرغ وغیرہ کی کوالٹی یامعیاراورقیمتوں کاتعین سرکاری یاانتظامی سطح پرکوئی کمیٹی کی جانب سے کیاجاتاہے توبناسئے یاریڈی میڈملبوسات یاجوتوں وغیرہ کی کوالٹی یامعیاراورقیمتیں کیوں مقررنہیں کی جاتی ہیں جبکہ ایسی چیزوں یعنی ملبوسات اورجوتوں کاکاروبارکرنے والے تاجرسب سے زیادہ گراں بازاری اورناجائزمنافع خوری کے مرتکب ہوجاتے ہیں ۔عیدوں کے مواقعوں پرملبوسات بالخصوص ریڈی میڈکپڑوں اورجوتوں وغیرہ کاکاروبارکرنے والے خریداروں کی جیبوں کوخالی کرنے میں کوئی کسرباقی نہیں چھوڑتے کیونکہ کوئی ایسے دکانات پرچیکنگ کیلئے کوئی ٹیم نہیں آتی ،اورنہ کوئی خریدارہی ان کیخلاف شکایت کرتانظرآتاہے ۔درآمدی یعنیImportedکے نام پرایسے دکاندارآسانی کیساتھ خریدارکوشیشے میں اُتارکرمال بٹورلیتے ہیں ۔جوتے فروش بھی کسی سے کم نہیں کیونکہ جوجوتے یاچپل چھاپڑی فروش کچھ سوروپے میں فروخت کرتے ہیں ،وہی جوتے چپل دکانداردوگنی تگنی قیمت یاریٹ پرخریدارکوتھمادیتے ہیں ۔عیدالفطرکے موقعہ پرگوشت ومرغ اورملبوسات کے بعدسب سے زیادہ خریداری بیکری کی ہواکرتی ہے ،اورغریب کنبے بھی کم سے کم500روپے کی بیکری روٹی خریدلیتے ہیں ۔اب بیکری والے بھی موقعہ غنیمت سمجھ کرخریداروں کودودوہاتھوں سے لوٹتے ہیں ۔بیکری والوں کی جانب سے مختلف اقسام کی چیزیں یعنی روٹیاں کئی کئی ہفتے پہلے ہی تیارکی جاتی ہیں ،اورپھران زائدالمعیادبیکری چیزوں کوعیدکے موقعہ پرفروخت کیاجاتاہے۔بیکری والوں کی تیارکردہ غذائی چیزوں کے معیارکی جانچ کیلئے کوئی ٹیم ان کے کارخانوں کی چیکنگ کیلئے نہیں آتی ہے ،اورنہ بیکری والوں کی تیارکردہ چیزوں کیلئے کوئی ریٹ مقررکی جاتی ہے۔عوامی حلقوں میں اسبات کولیکرسخت ناراضگی پائی جاتی ہے کہ عیدکے موقعہ پرخاص وعام خریداروں کولوٹنے والے ملبوسات وجوتے فروشوں اوربیکری والوں کی لگام کسنے کیلئے انتظامیہ کی سطح پرکوئی کارروائی نہیں کی جاتی ہے۔

Share This Article