مقبروں کی بے حرمتی، فورسز زیادتیاں غیر انسانی :ملک

By
5 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

مختلف جیلوں میں مقید کشمیر کے سیاسی اسیروں کی زندگیاں دوبھر کردی گئیں

سری نگر:یکم جون:/ لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک نے کہا کہ مقبروں کی بے حرمتی، مخالفین کے گھروں، باغات اور خاندانوں پر حملے اور گھر والوں کو مکان سمیت جلاڈالنے کی کوششیں ،سیاسی قائدین و اراکین کو جیلوں میں ڈال دینا نہ صرف غیر انسانی ہے بلکہ اخلاقیات اور جمہوریت کے اقدار کے منافی بھی ہے اور ایسی کاروائیوں کو محض بزدلانہ ہی قرار دیا جاسکتا ہے۔کے این این کو موصولہ بیان کے مطابق محمد یاسین ملک نے مسجد بلال دی بنڈ میں عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر جل رہا ہے اور کسی کو کوئی فلر تک لاحق نہیں اور نا ہی کوئی کشمیریوں کی آہ و بکا کی جانب متوجہ ہورہا ہے۔ہمارے پیر و جوان افواج، پولیس، ایس او جی اور دوسری فورسز کے ہاتھوں کٹ رہے ہیں،گرفتار کئے جارہے ہیں، تارچر کے جارہے ہیں،اور بے عزت ہورہے ہیں۔ وردی میں ملبوس قاتل مواخذے کے خوف سے عاری ہوکر اور بھارت نواز اسمبلی، اسکے ممبران خواہ ان کا تعلق بی جے پی، پی ڈی پی، کانگریس، این سی،سی پی آئی یا کسی دوسری ہند نواز جماعت سے ہو یا آزاد ممبرکی حیثیت میں ہوکی جانب سے قانونی جواز اور تحفظ ملنے کے بعد سے اب تک کشمیر کشی میں محو ہیں اور انہیں کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہند نواز سیاست کار اور اسمبلی ممبران کا پہلا اور بنیادی کام ہی ان قاتلوں اور ظالموں کو مواخذے سے استثناء فراہم کرنا ہے لیکن اس حقیقت کو جان لینے کے بعد ہم پر بھی فریضہ عائد ہوتا ہے کہ ہم اپنی ماضی کی غلطیوں سے سبق حاصل کرتے ہوئے مستقبل میں ان منافق سیاست کاروں اور انکی جماعتوں کے فریب سے دور رہیں اور ان کا ہر ہر سطح پر بائی کاٹ کریں ۔انہوں نے کہا کہ کوئی چھ ماہ قبل جب کچھ پولیس والوں کے گھروں پر عسکری جوانوں نے حملے کئے تو کشمیر پولیس کے ڈائرکٹر جنرل نے ایک بیان جاری کیا جس میں موصوف نے کہا کہ جنگ میں ملوث لوگوں کو ایک دوسرے کے خاندانوں کو اس جنگ میں نہیں دھکیلنا چاہئے اور اس سے بچنا چاہئے کیونکہ یہ اخلاقی اور انسانی حوالے سے اچھا نہیں ہے۔ لوگوں نے اسوقت اس بیان کو ٹھیک جانا لیکن آج بھارتی آرمی، پولیس، ایس او جی اور دوسری فورسز اپنے مخالفین کے گھروں اور گھر والوں پر حملے کررہے ہیں، ان کے گھر اور باغات تباہ کر رہے ہیں یہاں تک کہ ان کے گھر والوں کوگھر سمیت جلاڈالنے کی کوششیں تک کررہے ہیں ۔ بے شرمی اور بزدلی کی حد یہ ہے کہ اب شہید کئے گئے جوانوں کی قبروں اور مقبروں تک کی بے حرمتی اور توڑ پھوڑ کا سلسلہ شروع کردیا گیا گیا۔ ایسے میں ہم پولیس سربراہ سے پوچھنا چاہتے ہیں کہ آج موصوف کے اخلاقی اور انسانی بیانات اور ٹویٹ کیا ہوئے۔ کیا مرے ہوؤں کی قبروں کو اجاڑنا سب سے بڑی بزدلی اور بے ہمتی نہیں ہے؟ یاسین صاحب نے کہا کہ بات بات پر مفتی صاحب کا خواب میدان میں لانے والی پی ڈی پی اور اسکے سربراہ بھی اس صورت حال پر خاموش ہیں گویا یہ بھی مفتی صا حب کے خواب کا ہی کوئی روپ ہو۔کشمیری اسیروں پر ڈھائے جانے والے مظالم اور انکے ایام اسیری کو طول بخشنے کی مکروہ کاوشوں کی مذمت کرتے ہوئے یاسین صاحب نے کہا کہ دہلی کے تہاڑ جیل سے بھارت کی کئی دوسری جیلوں نیز جموں کشمیر کی جیلوں میں مقید کشمیر کے سیاسی اسیروں کی زندگیاں دوبھر کردی گئیں ہیں۔ ان اسیروں کی عید کے متبرک موقع پر رہائی پر زور دیتے ہوئے یاسین ملک نے انٹرنیشنل ریڈ کراس اور دوسری عالمی انسانی حقوق تنظیموں پر زور دیا کہ وہ کشمیری اسیروں کی حالت زار کی جانب توجہ مبذول کریں اور انہیں بھارتی استبداد سے رہائی دلانے میں اپنا رول ادا کریں۔

Share This Article